ناسا کے مطابق پرواز کے دوران طیارے کے نظام نے رفتار ماچ 1.077 ریکارڈ کی۔ یہ پرواز 81 منٹ جاری رہی، جس میں ٹیم نے سب سونک اور سپرسونک دونوں رفتاروں پر طیارے کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس دوران ناسا کا ایف 15 چیس طیارہ بھی اس کے قریب پرواز کرتا رہا۔

سپرسونک طیارے جب آواز کی رفتار سے زیادہ تیز اڑتے ہیں تو فضا میں دباؤ کی لہریں پیدا ہوتی ہیں، جو زمین پر زوردار دھماکے جیسی آواز سنائی دینے کا سبب بنتی ہیں۔ اسے ’سونک بوم‘ کہا جاتا ہے۔ اسی شور کی وجہ سے امریکا سمیت کئی ممالک میں آبادی والے علاقوں کے اوپر عام سپرسونک پروازوں پر پابندیاں عائد ہیں۔

X-59 کو اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ناسا کا مقصد ایسا طیارہ تیار کرنا ہے جو آواز کی رفتار سے زیادہ تیز پرواز کرتے ہوئے زوردار سونک بوم کے بجائے زمین پر نسبتاً ہلکی ’تھمپ‘ جیسی آواز پیدا کرے۔ اس کی غیر معمولی لمبی اور باریک ناک بھی اسی مخصوص ڈیزائن کا حصہ ہے، جو ایک اسکول بس سے بھی زیادہ لمبی ہے۔

X-59 کی تیاری اور تجربات کا سفر 12 جنوری 2024 کو شروع ہوا، جب ناسا اور لاک ہیڈ مارٹن کے اسکنک ورکس نے کیلیفورنیا کے شہر پالمڈیل میں طیارے کی رونمائی کی۔

28 اکتوبر 2025 کو اس نے جنوبی کیلیفورنیا کے اوپر پہلی تجرباتی پرواز کی۔ 14 اپریل 2026 کو طیارے نے موجاوے صحرا کے اوپر اپنی اب تک کی بلند اور تیز ترین پروازیں مکمل کیں، جبکہ 5 جون کو پہلی مرتبہ آواز کی رفتار سے زیادہ تیز اڑنے کا سنگِ میل عبور کیا۔

ناسا کے مطابق پہلی سپرسونک پرواز کے بعد 90 دن کے دوران ٹیم طیارے کو 16 مرتبہ اڑا چکی تھی۔

ناسا کے سربراہ جیرڈ آئزک مین نے کہا تھا کہ ٹیم آنے والے دنوں میں طیارے کو ماچ 1.4 تک لے جانے کی توقع رکھتی ہے۔ ناسا کے منصوبے کے مطابق مستقبل میں X-59 کو امریکا کے مختلف آبادی والے علاقوں کے اوپر بھی اڑایا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ لوگ اس کی پیدا کردہ ہلکی آواز کو کس طرح محسوس کرتے ہیں۔

یہ تجربات ناسا کے ’کوئسٹ‘ (Quesst) مشن کا حصہ ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی اور ڈیزائن کے تجربات امریکی طیارہ ساز کمپنیوں کو کم شور والے سپرسونک مسافر طیارے تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اگر یہ تجربات کامیاب رہے اور متعلقہ فضائی ضوابط میں تبدیلی کی گئی تو مستقبل میں زمین کے اوپر بھی تجارتی سپرسونک پروازوں کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس طرح طویل فاصلے کے فضائی سفر کا وقت کم کرنے کے ساتھ سونک بوم کے شور کا مسئلہ بھی حل کرنے کی کوشش کی جا سکے گی۔