صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ امریکی سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر کیا گیا، کیونکہ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایران کی جانب سے صدارتی طیارے کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور ٹرمپ کے خلاف مبینہ ایرانی سازشوں نے امریکی صدر کی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایئر فورس ون پر سوار ہونا بھی ایک ’فریب‘ تھا

رپورٹس کے مطابق ترکیہ سے واپسی کے دوران صدر ٹرمپ نے میڈیا کے نمائندوں اور وائٹ ہاؤس کے بیشتر عملے کے ہمراہ معمول کے مطابق صدارتی طیارے ’ایئر فورس ون‘ میں سوار ہوئے۔ تاہم یہ دراصل ایک سکیورٹی چال تھی۔

ایئر فورس ون میں سوار ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کو ایک کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر دوسرے طیارے میں منتقل کردیا گیا، جب کہ سفر کے بعد لینڈنگ کے مرحلے پر انہیں دوبارہ اسی طیارے میں منتقل کردیا گیا۔

اس پورے عمل کے دوران میڈیا اور وائٹ ہاؤس کے بیشتر عملے کو متبادل طیارے کے استعمال سے لاعلم رکھا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ اقدام ایک انٹیلیجنس اطلاع کے بعد کیا گیا، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایران ایئر فورس ون کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے خفیہ طیارہ تبدیل کرنے کی تصدیق کردی

صدر ٹرمپ نے اب خود بھی اس واقعے کی تصدیق کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں اور اگر سکیورٹی اہلکار انہیں کسی مختلف طیارے میں سفر کرنے کی ہدایت دیں تو انہیں اس پر عمل کرنا ہوتا ہے۔

ٹرمپ کے بقول میں سیکریٹ سروس اور فوج کی ہدایات پر عمل کرتا ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ میں دوسری پرواز اور مختلف طیارے میں سفر کروں۔ مجھے وہی کرنا ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے تاہم اس ممکنہ خطرے کی نوعیت یا انٹیلیجنس اطلاع کے بارے میں زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ایران سے ٹرمپ کو قتل کا خطرہ کتنا سنگین ہے؟

ٹرمپ کے خلاف ایرانی دھمکیوں کا معاملہ نیا نہیں۔ فروری 2026 میں ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے اگلے روز امریکی نشریاتی ادارے ’اے بی سی‘ کے نامہ نگار جوناتھن کارل سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس سے پہلے کہ وہ مجھ تک پہنچتے، میں نے انہیں پکڑ لیا۔ انہوں نے دو بار کوشش کی، لیکن میں نے انہیں پہلے جا لیا۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی منظوری اور تعاون سے کیے گئے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی رہنماؤں کی شہادت کی اطلاعات سامنے آچکی تھیں۔

ٹرمپ کے بیان سے بظاہر اس حملے اور ماضی میں ایرانی دھمکیوں اور مبینہ سازشوں کے درمیان براہ راست تعلق ظاہر ہوتا تھا۔

امریکی وزیر دفاع بھی ایرانی سازش کا دعویٰ کرچکے ہیں

ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ٹرمپ نے اگلے چھ ماہ کے دوران اس نوعیت کے بیانات دینے سے گریز کیا، تاہم امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے متعدد مواقع پر اسی مؤقف کو دہرایا۔

مارچ میں ہیگسیتھ نے کہا تھا کہ ایران نے صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، مگر بالآخر صدر ٹرمپ فاتح رہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک نامعلوم ایرانی شخص امریکی حملوں میں مارا گیا، جو ان کے بقول ایک قاتل یونٹ کی قیادت کرتا تھا۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سکیورٹی حکام ایران کو اب بھی صدر ٹرمپ اور امریکی مفادات کے لیے ممکنہ خطرہ سمجھتے ہیں۔

جنگی علاقوں میں خفیہ سفر غیر معمولی نہیں

سکیورٹی ماہرین کے مطابق کسی امریکی صدر کے جنگ زدہ علاقے یا اس کے قریب سفر کے دوران اس نوعیت کے حفاظتی اقدامات غیر معمولی نہیں ہوتے۔ ماضی میں امریکی صدور افغانستان، عراق اور یوکرین جیسے جنگ زدہ علاقوں کے خفیہ دورے بھی کرچکے ہیں۔

تاہم عام طور پر کم از کم چند میڈیا اداروں کو ایسے سفر کے بارے میں پیشگی علم ہوتا ہے اور بعد میں طے شدہ معاہدوں کے تحت معلومات منظر عام پر لائی جاتی ہیں۔

ٹرمپ کے معاملے میں متبادل طیارے کے استعمال کو طویل عرصے تک خفیہ رکھا گیا اور یہ تفصیل ایک ماہ سے زیادہ عرصے بعد سامنے آئی۔

ٹرمپ کی طاقتور شبیہ اور سکیورٹی خدشات

ٹرمپ کئی مرتبہ ایران کی فوجی کمزوری اور اپنی انتظامیہ کی طاقت کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں ایرانی حملے کے خدشے کے باعث کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کرنے کا واقعہ ان کی بنائی گئی طاقتور عوامی شبیہ سے ایک مختلف منظر پیش کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس کارروائی کے بعد اختیار کی گئی رازداری کی ایک وجہ صدر ٹرمپ کو عوامی سطح پر کمزور یا خوف زدہ دکھائی دینے سے بچانا بھی ہوسکتی ہے۔

تاہم اس واقعے کا کئی ہفتوں بعد سامنے آنا اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ ایران کو اب بھی امریکی مفادات کے لیے ایک ممکنہ خطرہ سمجھا جارہا ہے۔

قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد دھمکیاں

ٹرمپ کے خلاف ایرانی انتقامی دھمکیوں کی تاریخ ان کی پہلی مدتِ صدارت تک جاتی ہے۔ جنوری 2020 میں ٹرمپ نے ایک میزائل حملے کا حکم دیا تھا جس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے رہنما قاسم سلیمانی شہید ہوئے تھے۔

اس کے بعد ایرانی رہنماؤں نے امریکی صدر اور دیگر اعلیٰ حکام کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا وعدہ کیا تھا۔ ایران میں سامنے آنے والی ایک تصویر میں فلوریڈا میں گالف کھیلتے ہوئے ٹرمپ کو ایک ڈرون کا نشانہ بنتے ہوئے بھی دکھایا گیا تھا۔

پاکستانی شہری پر بھی ٹرمپ کے قتل کی سازش کا الزام

امریکی حکام ماضی میں ٹرمپ کے خلاف مبینہ ایرانی سازشوں کے متعددکارروائیاں کرچکے ہیں۔ 2022 میں بائیڈن انتظامیہ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ کسی بھی امریکی شہری کو نشانہ بنانے سے باز رہے۔ اسی عرصے میں سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو نشانہ بنانے کی ایک مبینہ سازش بھی سامنے آئی تھی۔

جولائی 2024 میں امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کو گرفتار کیا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ ان کے پاسدارانِ انقلاب سے روابط تھے اور وہ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کر رہے تھے۔

چار ماہ بعد افغان شہری فرہاد شاکری پر بھی ٹرمپ کے خلاف ایک اور قتل کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا۔

آصف مرچنٹ مارچ 2026 میں مجرم قرار دیے گئے، جب کہ فرہاد شاکری اب تک مطلوب ہیں۔ امریکی استغاثہ کے مطابق شاکری کو پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہلکار کی جانب سے ہدایات موصول ہوئی تھیں۔ اگرچہ یہ مبینہ منصوبے عملی کارروائی سے قبل ہی ناکام بنا دیے گئے، تاہم ان واقعات نے ٹرمپ کو درپیش سکیورٹی خطرات کو نمایاں کردیا۔

بٹلر حملے نے بھی خطرات بڑھا دیے

ٹرمپ کو صرف ایرانی دھمکیوں ہی کا سامنا نہیں رہا۔ جولائی 2024 میں پنسلوینیا کے شہر بٹلر میں انتخابی جلسے کے دوران فائرنگ سے وہ زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے کے دو ماہ بعد فلوریڈا میں ایک مسلح شخص کو گرفتار کیا گیا، جسے سیکریٹ سروس کے اہلکاروں نے اس مقام کے قریب درختوں میں چھپا ہوا دیکھا جہاں ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے۔

نیویارک ٹائمز کی وائٹ ہاؤس نامہ نگار میگی ہیبرمان نے حالیہ انٹرویو میں ایرانی سازشوں اور 2024 کی قاتلانہ کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات ٹرمپ کے لیے ایک ’’فیصلہ کن لمحہ‘‘ تھے۔

ان کے مطابق ٹرمپ کے لیے ایران اور مسلسل خطرے میں ہونے کا احساس ایک مستقل حقیقت بن چکا ہے۔

ٹرمپ خود بھی قتل کیے جانے کی باتیں کرتے ہیں

خبروں کی ویب سائٹ سیمافور کے مطابق صدر ٹرمپ اکثر اس امکان پر غور کرتے اور کبھی کبھار مذاق بھی کرتے ہیں کہ انہیں قتل کیا جاسکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرمپ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ کسی نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ صدر بننا اتنا خطرناک ہے اور اگر بتایا ہوتا تو شاید میں انتخاب ہی نہ لڑتا۔ اہلکار کے مطابق ٹرمپ یہ باتیں مذاق میں کہتے ہیں، تاہم ان کے پیچھے ایک حقیقت بھی موجود ہے۔

ایران کی جانب سے ’کِل ٹرمپ‘ کے نعرے

2025 میں ایران کی جوہری تحقیقاتی تنصیبات پر امریکی بمباری اور رواں سال کے وسیع فضائی حملوں اور بحری ناکہ بندی کے بعد ٹرمپ کے خلاف ایرانی دھمکیوں میں مزید شدت آئی۔

جولائی میں ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ ایران نے انہیں ’’قتل کرنے یا ان کے قتل کی کوشش کرنے‘‘ کی دھمکیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ہزار میزائل تیار حالت میں ہیں جن کا رخ ایران کی جانب ہے اور اگر ایرانی حکومت نے اپنی دھمکی پر عمل کیا تو مزید ہزاروں میزائل فوری طور پر داغے جائیں گے۔

ٹرمپ کی ترکیہ روانگی سے ایک روز قبل سابق ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران شرکا نے ایک بینر اٹھا رکھا تھا جس پر ’’کِل ٹرمپ‘‘ کے الفاظ درج تھے۔

اگلے ہفتے وسطی تہران کے ایک چوک میں ایک عمارت پر ٹرمپ کی ایک بڑی تصویر بھی آویزاں کی گئی، جس میں انہیں سیاہ تابوت میں لیٹے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ تصویر کے نیچے ہم ٹرمپ کو مار دیں گے اور خون کا بدلہ خون جیسے الفاظ درج تھے۔

ایران ماضی میں ٹرمپ کے خلاف کسی بھی سازش میں ملوث ہونے کی تردید کرتا رہا ہے۔

تاہم خامنہ ای کی شہادت اور امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد سامنے آنے والے پیغامات نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

طیارے میں صحافیوں سے ٹرمپ کی گفتگو

ترکیہ سے امریکہ واپسی کے سفر کے آخری مرحلے میں ٹرمپ طیارے کے پریس کیبن میں صحافیوں سے بات کرنے بھی آئے۔ انقرہ سے روانگی کے وقت سیکریٹ سروس نے طیارے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

صحافیوں نے اس غیر معمولی سفر کے حوالے سے صدر ٹرمپ سے سوالات کیے تو انہوں نے کہا کہ میں ہر وقت پڑھتا رہتا ہوں کہ میں ان کی فہرست، یعنی ہٹ لسٹ میں پہلے نمبر پر ہوں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ لیکن اگر میں گیا، تو آپ بھی جائیں گے۔ ٹھیک ہے ناں؟

یوں ترکیہ سے واپسی کے دوران طیارے کی خفیہ تبدیلی نے نہ صرف امریکی صدر کی سکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی ختم ہونے کے دعووں کے باوجود واشنگٹن اب بھی ٹرمپ کی سلامتی کو ممکنہ ایرانی خطرے کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔