ای سی او خطے سے متعلق اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان سے پیدا ہونے والا دہشتگردی کا خطرہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن، سلامتی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن سے رہے اور علاقائی اقتصادی سرگرمیوں میں مؤثر طور پر شامل ہو۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ کشیدگی کے بجائے تعمیری روابط اور عملی تعاون کی پالیسی اپنائی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت کو سہولت دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے تاکہ افغانستان کو خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ جوڑنے اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد مل سکے۔
نائب وزیراعظم کے مطابق پاکستان کی بنیادی توقع یہ ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، طالبان حکومت کو پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر وابستہ گروہوں کے خلاف ٹھوس، مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنا ہوں گے۔
اسحاق ڈار نے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کے معاملے کو علاقائی امن و سلامتی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو نظر انداز کرنے سے خطے میں اقتصادی رابطوں اور ترقی کے منصوبوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے اور سیکیورٹی صورتحال میں بہتری کے بغیر علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کی مکمل صلاحیت بروئے کار لانا مشکل ہوگا۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے خطے میں اقتصادی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ تقریباً 80 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے اور تقریباً 50 کروڑ آبادی پر مشتمل ای سی او خطہ اپنی معاشی اور تجارتی صلاحیت کے مقابلے میں عالمی تجارت میں محدود حصہ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق علاقائی تجارت بڑھانے، رکاوٹیں کم کرنے اور باہمی رابطوں کو بہتر بنانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان بہتر رابطہ کاری سے تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ پاکستان خطے کے لیے ایک اہم تجارتی راستے کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے اور وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے منسلک کرنے والے راستوں کو مزید فعال بنانے کے لیے تیار ہے۔
اسحاق ڈار نے علاقائی رابطوں کو مؤثر بنانے کے لیے ویزا نظام میں بہتری، سرحدی نقل و حرکت میں آسانی، اشیا اور افراد کی آمد و رفت کے طریقہ کار کو سہل بنانے، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور ٹرانزٹ نظام کو جدید بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ای سی او کے آئندہ برسوں کے لیے طے کردہ اسٹریٹجک اہداف علاقائی تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان ان اہداف کے تحت تجارت، رابطہ کاری، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار نے ای سی او کے رکن ممالک کے درمیان باہمی روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں موجود جغرافیائی اور اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی، بہتر علاقائی رابطہ کاری سے نہ صرف تجارت میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن اور اقتصادی ترقی کے لیے تعاون کا خواہاں ہے، تاہم اس مقصد کے لیے سیکیورٹی چیلنجز کا حل بھی ضروری ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں دہشتگردی کا مسئلہ حل ہونے کی صورت میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت اور رابطہ کاری کے منصوبوں کو زیادہ مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
نائب وزیراعظم نے ای سی او وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس کی تیاریوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان تمام رکن ممالک اور ای سی او سیکریٹریٹ کے ساتھ مل کر علاقائی تعاون کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان حالیہ سفارتی رابطوں میں بھی افغان سرزمین سے دہشتگردی کے خاتمے اور پڑوسی ممالک کے خلاف کارروائیوں کو روکنے پر زور دیتا رہا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے افغان صورتحال کے حوالے سے پاکستان کے اس مؤقف کو بھی دہرایا ہے کہ افغانستان میں استحکام، علاقائی سلامتی اور اقتصادی انضمام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات ہیں۔
پاکستان کی جانب سے یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان سے متعلق علاقائی سیکیورٹی خدشات اور سرحد پار دہشتگردی کا معاملہ مسلسل سفارتی ایجنڈے کا حصہ بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ جائزہ رپورٹس میں بھی افغانستان میں سرگرم مختلف دہشتگرد گروہوں سے پیدا ہونے والے علاقائی خطرات کا ذکر کیا گیا ہے۔







