غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکا ایران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط پوری کردے تو آبنائے ہرمز سات روز کے اندر کھولی جاسکتی ہے۔

عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط نئی نہیں بلکہ ان ہی نکات پر مشتمل ہیں جو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق سات روز کی مدت اس وقت شروع ہوگی جب واشنگٹن ایرانی تجویز کو قبول کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر مذکورہ مفاہمتی سمجھوتے پر امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے قبل عمل درآمد ہوجائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ ان کے مطابق مجوزہ شرائط گزشتہ معاہدے میں شامل شقوں سے مختلف نہیں ہیں، تاہم معاہدے پر عمل درآمد کا فیصلہ امریکا پر منحصر ہے۔

ایران نے یہ تجویز قطر کے ذریعے امریکا تک پہنچائی ہے اور تہران اب واشنگٹن کے جواب کا منتظر ہے۔ رپورٹس کے مطابق تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی بحالی بھی شامل ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو دوبارہ ملک میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر معائنہ کار ایران آکر معائنہ کرنا چاہتے ہیں تو اس مخصوص معاملے پر مذاکرات کے دوران باہمی اتفاق اور معاہدے تک پہنچا جاسکتا ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اگر کوئی وعدہ کرے گا تو اسے پورا کرے گا اور امریکا کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

تاہم مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری پروگرام سے متعلق معاملات مذاکرات اور موجودہ بین الاقوامی فریم ورک کے تحت طے کیے جاسکتے ہیں۔

ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے شرائط قبول کیے جانے کے بعد سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے، جب کہ اس کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔

تاہم تازہ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی سات روزہ تجویز مسترد کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے اس حوالے سے مختلف سطحوں پر ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔