اپریل 5, 2025 12:08 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

اللّٰہ کا سہارا: دنیا کی تلخ حقیقتوں میں امید کی کرن

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

زندگی کا سفر ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ہم اپنی تمام تر نیک نیتی کے ساتھ اللہ کی راہ میں چل رہے ہوتے ہیں مگر پھر بھی لوگوں کی باتیں ہمیں تھکا دیتی ہیں۔ ان کی زبانیں ہمارے اخلاص پر سوال اٹھاتی ہیں، ہمارے ارادوں کو جانچتی ہیں، اور ہمارے حوصلے کو توڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔

ایسا لگتا ہے جیسے ہماری کوششوں کا کوئی اعتبار ہی نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی باتیں کبھی ختم نہیں ہوتیں اور ان سے بچنا ممکن نہیں۔

ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہاں ہر عمل کا ایک ردِعمل ہوتا ہے۔ لوگ ہمیشہ ہمارے بارے میں کوئی نہ کوئی رائے رکھتے ہیں چاہے ہم اچھا کریں یا برا۔ سوشل میڈیا، خبروں اور روزمرہ زندگی میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ دوسروں کی زندگیوں پر کیسے تبصرے کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ تبصرے حوصلہ بڑھانے کے بجائے مایوسی کا باعث بنتے ہیں اور انسان تھکنے لگتا ہے۔

ہم میں سے ہر کوئی اپنی زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر ایسی صورتحال سے گزرتا ہے جب دنیا کے الفاظ تیر بن کر دل کو چھیدنے لگتے ہیں۔ جب تنقید اور طنز کی گونج ہمارے اندر کی روشنی کو ماند کرنے لگتی ہے۔ جب دل چاہتا ہے کہ سب چھوڑ چھاڑ کر کہیں دور چلے جائیں جہاں صرف سکون ہو اور اللہ کی محبت کا سایہ۔

لیکن ایسے لمحات میں ہی اللہ کی رحمت ہمیں تھام لیتی ہے۔ وہ جو ہمارا رب ہے، جو ہماری نیتوں سے واقف ہے، جو دلوں کے حال جانتا ہے، وہ ہمیں ہمارے درد کے ساتھ کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ وہ دیکھتا ہے کہ ہم نے اس کی رضا کے لیے کیا کچھ قربان کیا اور پھر وہی ہمیں وہ سکون عطا کرتا ہے جو دنیا کی کوئی چیز نہیں دے سکتی۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: “فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا”

(پس بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔) (سورۃ الشرح: 5-6)

یہ سچ ہے کہ دنیا کی باتیں ہمیں تھکا سکتی ہیں مگر اللہ کا سہارا ہمیں تھام لیتا ہے۔ جب ہم اپنی زندگی کا مرکز اللہ کو بنا لیتے ہیں تو پھر لوگوں کی رائے بے معنی ہو جاتی ہے۔ وہ چاہے جتنا بھی بولیں جتنا بھی تنقید کریں ہمارے دل کو سکون تب ہی ملے گا جب ہم جان لیں گے کہ ہماری اصل کامیابی اللہ کے ہاں ہے نہ کہ دنیا کی داد و تحسین میں ہے۔

آج کے دور میں جہاں دنیا کی تیز رفتار زندگی میں لوگ ایک دوسرے پر جملے کستے ہیں، اپنی رائے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، وہاں ہمیں خود کو مضبوط رکھنا ہوگا۔ اگر کبھی لوگوں کی باتیں تھکانے لگیں تو بس رک کر اللہ کی طرف رجوع کر لیں۔ وہی ہمارا سب سے بڑا سہارا ہے اور وہی ہمیں وہ طاقت دے گا جو ہمیں دنیا کی تھکن سے آزاد کر دے۔ جو لوگ اللہ کے لیے چلتے ہیں وہ کبھی نہیں ہارتے۔ کیونکہ ان کا سفر دنیا کی نظروں میں نہیں بلکہ اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوتا ہے۔

لہٰذا اپنے راستے پر ثابت قدم رہیے۔ دنیا کی باتوں کو دل پر نہ لیجیے بلکہ اللہ کی محبت کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنائیے۔ یہی وہ روشنی ہے جو ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔ جو ہمیں آزمائشوں میں مضبوط رکھتی ہے اور جو ہر مشکل میں امید کی کرن ثابت ہوتی ہے۔

میری دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں جب تک زندہ رکھے اپنے سہارے کا ہی محتاج رکھے آمین۔ اور یقناً اللّٰہ کے سہارے کی محتاجی بہترین محتاجی ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس