کراچی میں رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی شہر میں گراں فروشی کی روک تھام کے لیے انتظامیہ نے سخت ایکشن لیتے ہوئے پندرہ لاکھ 90 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا اور 14 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔
یہ ایکشن اُس وقت کیا گیا جب شہر کی انتظامیہ نے رمضان میں اشیاء خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے قیمتوں کا نیا تعین کیا تھا۔
انتظامیہ نے رمضان کے شروع ہوتے ہی گوشت اور دیگر خوردنی اشیاء کی قیمتوں کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کیں۔ ان قیمتوں کے مطابق، بغیر ہڈی کا گوشت 950 روپے فی کلو، ہڈی والے گوشت کی قیمت 750 روپے فی کلو رکھی گئی، جبکہ بغیر ہڈی کا ہیفر گوشت 1150 روپے فی کلو اور ہڈی والے گوشت کی قیمت 1000 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی۔
تاہم، ان نئے نرخوں کے باوجود شہر میں بعض دکانداروں نے اس فیصلے کا مکمل احترام نہیں کیا اور مہنگے داموں اشیاء فروخت کیں جس پر انتظامیہ کو فوری ایکشن لینا پڑا۔
کمشنر کراچی کے دفتر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق “تمام ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز نے قیمتوں کی نگرانی کی اور رمضان کے پہلے روز گراں فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 1.59 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا۔”
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں میں 175 فیصد اضافہ، شہریوں کا خون بہنے لگا
پریس ریلیز کے مطابق “کراچی کے مختلف اضلاع میں 14 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور 18 دکانوں کو سیل کر دیا گیا۔ ان میں سے 6 افراد کو کیماری سے جبکہ 8 افراد کو کورنگی سے گرفتار کیا گیا۔”
جرمانے کی تفصیلات میں بتایا گیا کہ جنوبی ضلع میں 692,000 روپے، مشرقی ضلع میں 471,000 روپے، کورنگی میں 296,000 روپے، مرکزی ضلع میں 19,000 روپے، کیماری میں 28,000 روپے، اور مغربی ضلع میں 80,000 روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔
مزید برآں، کورنگی میں 15 دکانیں سیل کی گئیں جبکہ مغربی ضلع میں 3 دکانیں بھی سیل کی گئیں۔
کمشنر کراچی نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ رمضان کے دوران اشیاء خور و نوش کی مناسب قیمتوں کو یقینی بنائیں اور گراں فروشوں کے ساتھ سختی سے نمٹیں۔
کمشنر کا کہنا تھا کہ “کوئی بھی دکاندار حکومت کی مقرر کردہ قیمتوں سے انحراف کرے گا تو اُس کے خلاف بھاری جرمانہ یا گرفتاری کی جائے گی۔”
اس ایکشن کا مقصد رمضان کے مہینے میں شہریوں کو مناسب قیمتوں پر اشیاء فراہم کرنا ہے تاکہ عوام رمضان کے روحانی فوائد سے مکمل طور پر لطف اندوز ہو سکیں اور انہیں قیمتوں کی اضافی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے گراں فروشوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: “ایم کیو ایم پی ایس پی مافیا کے قبضے میں ہے” وزیر بلدیات سندھ کا دعویٰ