اپریل 5, 2025 1:07 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے امریکی شہری مستقل طور پر برطانیہ جانے کے خواہاں

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

گزشتہ سال ریکارڈ تعداد میں امریکی شہریوں نے برطانوی شہریت کے لیے درخواست دی، خاص طور پر 2024 کی آخری سہ ماہی میں، جب سب سے زیادہ درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ یہ وقت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کے قریب تھا، جس سے یہ خیال پیدا ہوا کہ سیاسی حالات اس کی ایک بڑی وجہ ہو سکتے ہیں۔

برطانیہ کے ہوم آفس کے مطابق، 2023 میں تقریباً 5,000 درخواستوں کے مقابلے میں 2024 میں 6,100 سے زائد امریکیوں نے برطانوی شہریت کے لیے درخواست دی۔ یہ 2004 کے بعد سے سب سے زیادہ تعداد ہے، جب سال بھر میں 3,000 سے بھی کم درخواستیں موصول ہوئیں۔

2024 کے آخری تین مہینوں میں امریکیوں کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جب 1,700 سے زائد افراد نے برطانیہ کی شہریت کے لیے اپلائی کیا۔ یہ کسی بھی سہ ماہی میں سب سے زیادہ تعداد تھی، جو 2020 میں دیکھے گئے اضافے کی یاد دلاتی ہے، جب ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت اور ٹیکس پالیسی میں تبدیلیوں کے بعد، 5,800 سے زائد امریکیوں نے اپنی شہریت ترک کر دی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کچھ لوگ سیاسی حالات اور ٹیکس پالیسیوں سے ناخوش ہو کر برطانیہ منتقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 2020 میں، بامبرج اکاؤنٹنٹس کے ماہر الیسٹر بامبرج نے وضاحت کی تھی کہ کئی امریکی، خاص طور پر وہ جو پہلے ہی برطانیہ میں رہ رہے تھے، سیاسی ماحول اور مالی وجوہات کی بنا پر شہریت چھوڑنے کا فیصلہ کر رہے تھے۔

2024 کے آخری تین مہینوں میں امریکیوں کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ (لندن سٹریٹ)

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی برطانوی شہریت کے لیے درخواست دینے کے اہل ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کی والدہ، میری این میکلوڈ، اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئی تھیں اور 17 سال کی عمر میں امریکہ منتقل ہوئی تھیں۔

جس طرح زیادہ امریکی برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اسی طرح کچھ برطانوی بھی دوسرے ممالک کی شہریت کی طرف رجحان رکھتے ہیں۔ 2016 میں بریگزٹ کے بعد، یورپی یونین میں آزادی سے رہنے اور کام کرنے کے لیے آئرش پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے والے برطانوی شہریوں کی تعداد تقریباً دوگنا ہو گئی۔

اسی دوران، ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کی خبروں کے ساتھ دنیا بھر میں کئی امریکیوں نے مستقبل کے بارے میں خدشات ظاہر کیے۔ کچھ مقامات نے اسے ایک موقع سمجھا، جیسے اٹلی کے ایک گاؤں نے امریکی تارکین وطن کو متوجہ کرنے کے لیے ایک ویب سائٹ لانچ کی، جہاں سستے مکانات کی پیشکش کی گئی۔ اس ویب سائٹ نے امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “کیا آپ عالمی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں؟ کیا آپ زیادہ متوازن زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟ سردینیا کی شاندار جنت میں اپنے یورپی فرار کی تعمیر شروع کریں۔”

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس