یورپی مرکزی بینک (ای سی بی) کے ادائیگی کے نظام میں گزشتہ ہفتے پیدا ہونے والی بڑی تکنیکی خرابی کے باعث ہزاروں افراد کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس سے سرکاری شعبے کے ملازمین، پنشنرز اور فلاحی ادائیگی وصول کرنے والے افراد کی تنخواہوں میں تاخیر ہوئی۔
عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح پیش آیا، جب یورپی مرکزی بینک کا ‘ٹارگٹ پیمنٹ سسٹم’ ناکام ہوگیا، جو روزانہ کھربوں یوروز کی ٹرانزیکشنز کو سنبھالتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس مسئلے کی وجہ ڈیٹا بیس کی خرابی کو قرار دیا گیا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اصل مسئلہ ایک ہارڈویئر جزو کی ناکامی تھی۔
10 گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس خرابی نے 15,000 سے زائد معمر اور کم آمدنی والے یونانی شہریوں کی فلاحی ادائیگیاں، آسٹریا میں متعدد سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، پنشنرز کی رقم اور کئی مالیاتی سودے معطل کر دیے۔
نظام کی خرابی دور کرنے کے لیے یورپی مرکزی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے اہلکاروں کو رات بھر کام کرنا پڑا۔ یورپی مرکزی بینک نے اپنے ہنگامی ادائیگیوں کے نظام کو فعال کیا، لیکن یہ لاکھوں ٹرانزیکشنز کے دباؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا۔
مزید یہ کہ جمعے کے روز بھی یونان اور آسٹریا میں کئی افراد کو اپنی تنخواہیں اور پنشن وقت پر نہ مل سکیں، جب کہ مالیاتی منڈیوں میں بھی شدید غصہ پایا گیا۔

یورپی پارلیمنٹ کے ایک رکن مارکس فیبر نے اس بحران پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے روئٹرز کو بتایا کہ ہارڈویئر کی خرابی قابلِ معافی ہے، لیکن ایک ایسا بیک اپ سسٹم نہ ہونا جو فوری طور پر فعال ہو سکے، ناقابل قبول ہے۔ ای سی بی کو اس کی مکمل وضاحت دینی ہوگی۔
لندن میں قائم قانونی فرم اوسبورن کلارک کے پارٹنر پال ہیرس نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی نجی بینک میں ایسی خرابی آتی ہے، تو ذمہ داری کا تعین فوراً کیا جاتا ہے، لیکن یہاں احتساب کا کوئی واضح نظام نظر نہیں آ رہا۔
بروکرز اور مالیاتی ادارے جو اس خرابی سے متاثر ہوئے، ECB سے معاوضے کے حصول کی تیاری کر رہے ہیں۔ ECB کے قوانین کے مطابق اگر بینک کے نظام کی ناکامی کے باعث مالی نقصان ہو، تو متاثرہ ادارے اور افراد معاوضے کے دعوے کر سکتے ہیں۔
یورپی مرکزی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2021، 2022 اور 2023 میں اس کا ٹارگٹ پیمنٹ سسٹم 100 فیصد فعال رہا تھا، جب کہ 2020 میں یہ شرح 99.46 فیصد رہی، جو کہ ہدف 99.7 فیصد سے کم تھی۔
مزید پڑھیں: ترکیہ کی یوکرین میں فوجی دستے بھیجنے کی تیاری: کیا عالمی امن کے لئے ایک نیا مرحلہ آ رہا ہے؟
دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کے مالیاتی ماہر آرون کلین نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے روئٹرز سے کہا کہ ایک ایسا بینکاری نظام جو کبھی ناکام نہ ہو، شاید ممکن ہی نہ ہو۔ لیکن اگر اسے بالکل محفوظ بنانے کی کوشش کی جائے تو یہ اتنا مہنگا ہو سکتا ہے کہ چند گھنٹوں کی تاخیر کے نقصان سے زیادہ بڑا مسئلہ بن جائے۔
یورپی مرکزی بینک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی کسی خرابی سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ اس واقعے نے بینکاری نظام میں موجود کئی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے، جس سے کئی سوالات نے بھی جنم لیا ہے؟