سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف مہم چلانے کے معاملے پر تحریک انصاف کی قیادت وفاقی حکومت کی قائم کردہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئی۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، رؤف حسن اور شاہ فرمان جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوئے، جس کی سربراہی آئی جی اسلام آباد نے کی۔
جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے سوشل میڈیا ہینڈلنگ اور ریاستی اداروں کے خلاف متنازع پوسٹس سے متعلق سخت سوالات کیے، جے آئی ٹی نے پاک فوج اور ریاستی اداروں سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس پر سخت سوالات پوچھے، پی ٹی آئی قیادت کو سوشل میڈیا پر متنازع پوسٹس بھی دکھائی گئیں۔
جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی قیادت سے پارٹی فنانسنگ کے حوالے سے بھی پوچھ گچھ کی، جب کہ تحریک انصاف کے فنانس ڈپارٹمنٹ کے دو افراد بھی جے آئی ٹی میں پیش ہوئے۔
اس کے علاوہ عالیہ حمزہ اور کنول شوذب کی نمائندگی ان کے وکیل ڈاکٹر علی عمران نے کی۔
جے آئی ٹی نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ طلبی پر عالیہ حمزہ اور کنول شوذب خود پیش ہوں۔
مزید پڑھیں: پاکستان مخالف پروپیگنڈہ، تحریک انصاف سوشل میڈیا ٹیم کے 10اہم عہدیدارجے آئی ٹی میں طلب، نوٹس جاری
یاد رہے کہ جے آئی ٹی نے تحریک انصاف کے 15 رہنماؤں کو طلب کیا تھا، جن میں بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجا، رؤف حسن، فردوس شمیم نقوی، خالد خورشید خان، میاں اسلم اقبال، حماد اظہر، عون عباس، عالیہ حمزہ، شہباز شبیر، وقاص اکرم، کنول شوذب، تیمور سلیم خان، اسد قیصر اور شاہ فرمان شامل تھے۔
آج کی پیشی میں صرف 3 رہنما، بیرسٹر گوہر علی خان، رؤف حسن اور شاہ فرمان جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے، جب کہ دیگر رہنماؤں کی عدم حاضری کے حوالے سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔