اپریل 5, 2025 1:20 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

“روسی صدر امن چاہتا ہے” ٹرمپ کو پیوٹن پر اتنا یقین کیوں ہے؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
"روسی صدرپوٹن امن چاہتا ہے" امریکی صدر( فائل فوٹو)

امریکی صدرنے دعویٰ کیا ہے کہ ماسکو کے خلاف پابندیوں کی دھمکی سے ، روسی صدر پوٹن چاہتے ہیں کہ یوکرین کے ساتھ جنگ ختم کی جائے اور امن قائم کیا ہو سکے۔

جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر وسیع پیمانے پر بینکاری اور محصولات (ٹیرف) کی پابندیاں لگائی تھی، جب تک یوکرین کے ساتھ جنگ بندی اور حتمی امن معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

عالمی خبر ارساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ جب تک جنگ بندی اور حتمی امن معاہدہ طے نہیں پا جاتا روس پر میں بڑے پیمانے پر بینکاری ، دیگر اقتصادی پابندیاں اور محصولات (ٹیرف) عائد کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں، ، انہوں نے مزید کہا روس اور یوکرین، فوراً مذاکرات کی میز پر آ جاؤ، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

ٹرمپ کو یوکرین پر دباؤ ڈالنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر ان کے اس بیان کے بعد جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنگ شروع کرنے کا ذمہ دار کیو ہے، نہ کہ ماسکو۔

واضح رہے کہ روس پر پابندیاں اور محصولات عائد کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی اس رپورٹ کے چند روز بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وائٹ ہاؤس جنگ کے خاتمے اور ماسکو کے ساتھ سفارتی و اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کے تحت، روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔

روس، جو دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، یوکرین پر فروری 2022 میں حملے کے بعد سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ہزاروں پابندیوں کی زد میں ہے۔

امریکی پابندیوں میں روس کی تیل اور گیس کی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے اقدامات شامل ہیں، جن میں روسی تیل کی برآمدات پر 60 ڈالر فی بیرل کی حد مقرر کرنا بھی شامل ہے۔

عالمی خبر ارساں ادارہ رائٹرز کے مطابق امریکہ کے سخت ترین اقدامات میں، سابق صدر جو بائیڈن نے 10 جنوری کو روسی توانائی کمپنیوں اور ان جہازوں پر پابندیاں عائد کی تھیں جو روسی تیل کی ترسیل میں شامل تھے۔ اس کے بعد، امریکہ نے 250 نئے اہداف پر پابندیاں لگائیں، جن میں کچھ چین میں قائم ادارے بھی شامل تھے، تاکہ روس کی امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔

ان اقدامات میں تقریباً 100 اہم روسی اداروں پر نئی پابندیاں شامل تھیں، جن میں بینک اور توانائی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیاں شامل تھیں، جو پہلے ہی امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہی تھیں۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس