مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو کوئی ڈیل یا رعایت نہیں چاہیے، تو وہ بار بار کس لیے اسٹیبلشمنٹ کے پاس جاتی ہے؟
نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کی بات کی ہے، پتا نہیں کہ یہ رابطے کس لیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب پی ٹی آئی کو کوئی ڈیل اور رعایت نہیں چاہئے، تو وہ کس لیے بار بار اسٹیبلشمنٹ کے پاس جاتی ہے، جب کہ تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے دوران ہماری بات ہی نہیں سنی۔
پارلیمنٹ میں کے سالانہ اجلاس میں ہوئے شور شرابے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شور شرابےکی روایت کئی برسوں سے چلی آرہی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: ’دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے‘ صدر زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب
واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا، جہاں صدر مملکت، وزیرِاعظم، وزیرِاعلیٰ پنجاب سمیت تمام اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کے نئے سال کے آغاز پر سب اراکین کو خوش آمدید کہوں گا۔ 8ویں بار پارلیمان سے خطاب کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔
صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری سکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کی قربان دی ہیں، ہم دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
صدر پاکستان کا کہنا تھا اپنی قوم اور بہادر مسلح افواج کے تعاون سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، انٹیلی جنس پر مبنی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کیا گیا، پوری قوم کو اپنی سیکورٹی فورسز پر فخر ہے۔