اپریل 4, 2025 7:14 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

ہم پرانی نوکری پر بحال ہو گئے

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

ڈاکٹر عافیہ صدیقی (یہ ایک پاکستانی نیورو سائنٹسٹ ہیں، جو اس وقت افغانستان میں امریکی فوجی اہلکاروں کے قتل کی سازش کے الزام میں امریکا میں پابند سلاسل ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ دوران تفتیش انہوں نے ایک فوجی افسر کی رائفل چھین ان پر فائرنگ کی تھی، امریکی عدالت نے ان کو 86 سال کی سزا سنائی ہے، جس میں سے صرف 16 سال گزر چکے ہیں) کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست جمع کرائی گئی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ وہ حکومت پاکستان سے عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے موثر اور عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرے۔
اس کیس میں ایک مثبت پیش رفت تب سامنے آئی جب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اس وقت کے امریکی صدر، جو بائیڈن کو خط لکھا اور درخواست کی کہ عافیہ صدیقی کی سزا معاف اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر رہا کیا جائے۔ اس خط میں وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ عافیہ صدیقی کو علاج کی بہتر سہولیات فراہم نہیں کی جا رہی، لہذا ان کو رہا کیا جائے۔
بعد ازاں، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات کے مطابق، حکومت پاکستان کے ایک اعلی سطح وفد نے امریکا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے قانون سازوں سے ملاقاتیں کیں اور عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے سے متعلق تمام قانونی پہلووں پر تفصیلی بات چیت کی۔ وفد نے وائٹ ہاوس میں عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے رحم کی اپیل بھی جمع کرا دی۔
حال ہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل، کلائیو اسمتھ نے عدالت میں ایک اعلامیہ جمع کرایا جس میں تجویز دی گئی کہ حکومت پاکستان عافیہ صدیقی کے بدلے پاکستان میں قید ڈاکٹر شکیل آفریدی (یہ ایک پاکستانی ڈاکٹر ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کے بارے میں سی آئی آے کو معلومات فراہم کی تھیں۔ یہ ایک کالعدم عسکری تنظیم کی حمایت کے الزام میں پاکستان میں قید ہیں) کو امریکا کے حوالے کر دے۔ اس تجویز کو قابل غور مانتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی حوالگی پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا۔
اگلی سماعت پر وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنا جواب جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی حوالگی کی تجویز قابل عمل نہیں ہے۔ حکومت نے یہ بھی دعوی کیا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین قیدیوں کے تبادلہ سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہے۔
اس کیس میں ایک مایوس کن مرحلہ تب آیا جب وزارت خارجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ وزیراعظم شہباز شریف کے صدر جو بائیڈن کو لکھے گئے خط کا کوئی جواب نہیں آیا۔
تاہم، اس کیس کی مزید سماعتیں جاری رہیں لیکن حالیہ دنوں میں عوام کی جانب سے عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ ایک بار پھر اٹھایا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں نے بلوچستان سے گرفتار کئے گئے افغان دہشتگرد، شریف اللہ عرف جعفر (یہ دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ شام و عراق کی ذیلی خراسان شاخ کا کمانڈر تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2021 میں افغانستان سے فوجی انخلاء کے وقت کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ پر 13 امریکی فوجیوں کو قتل کیا تھا۔ یہ ایک خود کش حملے میں ملوث تھے جس میں 13 امریکی فوجیوں کے علاوہ 170 افغان شہری بھی ہلاک ہوئے تھے) کو امریکا کے حوالے کیا۔ تب سے سوشل میڈیا صارفین غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت پاکستان سے یہ گلہ کر رہے ہیں کہ اگر امریکا عافیہ صدیقی کو رہا نہیں کر رہا تو آپ نے شریف اللہ کو ان کے حوالے کیوں کیا؟
اس پر حکومت پاکستان کا موقف سامنے آیا جس میں بتایا گیا کہ دہشتگرد شریف اللہ کو اقوام متحدہ کی قرارداوں کے تحت گرفتار اور امریکا کے حوالے کیا گیا۔
حکومت کا یہ اقدام اس لئے بھی تنقید کی زد میں ہے کیونکہ جب عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل نے عافیہ صدیقی کے بدلے شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرنے کی تجویذ دی تو حکومت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابل عمل نہیں اور نہ ہی پاکستان کا امریکا کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود ہے۔
اس غبارے سے ہوا تب نکلی جب اسلام ہائیکورٹ میں عافیہ صدیق کیس میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل، منور اقبال دوگل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دئے کہ آپ کہتے ہیں، امریکا سے قیدیوں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے، لیکن کل آپ نے ایک بندے (شریف اللہ) کو پکڑ کر بغیر کسی معاہدے کے امریکا کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ہم نے شکیل آفریدی حوالگی سے متعلق وفاقی حکومت سے جواب مانگا لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں آیا۔
دوران سماعت وفاقی حکومت نے عدالت میں عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق درخواست فوری نمٹانے کیلئے متفرق درخواست دائر کر دی۔
اس پر عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ حکومت اب کیس فوری نمٹانے کی درخواست کر رہی ہے، سادہ الفاظ میں کیوں نہیں کہتے کہ آپ کیس سے چٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو خط لکھنا تھا، لکھ دیا، ان کو ویزہ چاہیئے تھا دے دیا، آپ نے جو کرنا تھا، کر لیا۔ ایسا کرنے سے پوری دنیا کو معلوم پڑ جائے گا کہ پاکستان نے کیا کیا، آپ نے کون سے تیر مارے!
دوسری جانب امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کانگریس کی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغان دہشتگرد کی گرفتاری اور حوالگی پر حکومت پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔ جواب میں پاکستان نے بھی شکریہ ادا کیا۔
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ عوام خوش ہو جاتے لیکن وہ اس پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کی تنقید شاید بجا ہے۔
عوام کا ماننا ہے کہ پاکستان نے یہ سب آئی ایم ایف کی ڈیل بچانے اور امریکا کو خوش کرنے کیلئے کیا۔ ایک سینئر تجزیہ کار کا اس بارے کہنا تھا کہ، یہ فلم ہم نے پہلے بھی دیکھی ہوئی ہے۔ امریکا ہمیں دہشتگرد کا نام بتاتا ہے، ہم اسے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کرتے ہیں اور شاباشی پاتے ہیں۔ کافی عرصہ بعد ‘وار اینڈ ٹیرر’ اور اس میں پاکسان اور امریکا کے درمیان تعاون کا سن کر یوں لگا کہ ہم پرانی نوکری پر بحال ہو گئے ہیں۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس