امریکا میں حکومت کا سب سے اہم ادارہ محکمہ تعلیم، ایک تاریخ ساز اور متنازعہ فیصلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دسمبر 2024 میں دی گئی ہدایات کے مطابق محکمہ تعلیم کے تقریبا نصف عملے کو فارغ کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
یہ فیصلہ محکمے کے مستقبل کے بارے میں اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے کیونکہ ٹرمپ نے اپنے عہدے کے دوران محکمہ تعلیم کو مکمل طور پر ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔
محکمہ تعلیم کی طرف سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں 4,133 سے کم ہو کر صرف 2,183 اہلکار باقی رہ جائیں گے۔
یہ برطرفیاں ٹرمپ کے اس وعدے کا حصہ ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امریکی حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے انہیں کم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں بجلی کی بندش کے درمیان فلسطینی ‘تباہ کن’ حالات کا شکار
محکمہ تعلیم کے بارے میں یہ اعلان نہ صرف ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ امریکی معیشت کے لیے بھی سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
محکمہ تعلیم کے دفاتر واشنگٹن میں منگل کی شام سے بدھ تک بند کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔
داخلی دستاویزات کے مطابق یہ بندشیں اس بات کا عندیہ ہیں کہ محکمہ کی تحلیل کی تیاری کی جا رہی ہے۔
قبل ازیں، اسی طرح کی بندشیں امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) اور صارفین کی مالیاتی تحفظ کے ادارے (CFPB) کے دفاتر کی بندش سے جڑی ہوئی تھیں۔
امریکی وزیر تعلیم ‘لنڈا میک میہن’ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ “ہاں، یہ برطرفیاں محکمہ تعلیم کے خاتمے کا پیش خیمہ ہیں، اور یہ صدر کا حکم ہے۔”
اس فیصلے کے ساتھ ہی ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے لاگت میں کمی کی مہم کو تیز تر کرتے ہوئے مختلف حکومتی اداروں میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی مہم شروع کر دی ہے۔
لازمی پڑھیں: آسٹریا نے پناہ گزینوں کے لیے فیملی ری یونفیکیشن پر پابندی عائد کر دی
مذکورہ برطرفیوں کے ساتھ محکمہ تعلیم میں اب صرف 2,183 ملازمین رہ جائیں گے اور انہیں 21 مارچ سے انتظامی رخصت پر بھیج دیا جائے گا۔
اس فیصلے کے بعد محکمہ تعلیم کے تقریبا تمام ملازمین بے روزگار ہو جائیں گے جس سے معاشی اثرات میں مزید اضافہ ہو گا۔
اس فیصلے کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے بے شمار محکموں میں ’’ابتدائی ریٹائرمنٹ‘‘ کی پیشکش کی جا رہی ہے، جس میں بعض اہلکاروں کو 25,000 ڈالر تک کی رقم پیش کی جا رہی ہے۔
ضرور پڑھیں: چین میں ایران کے جوہری پروگرام پر اہم ملاقات، ایران اور روس کے نائب وزرائے خارجہ شریک ہوں گے
یہ پیشکش محکمہ صحت، سوشل سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن، اور دیگر حکومتی اداروں میں کی جا رہی ہے، تاکہ برطرفیوں کی رفتار تیز کی جا سکے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف یہ ہے کہ حکومت میں بڑے پیمانے پر ‘غلط ادائیگیاں’ اور ‘فضول خرچی’ ہو رہی ہے جس کے لیے مختلف ادارے خود کو مزید چھوٹا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی حکومت کے لیے یہ فیصلہ ایک سنگین موڑ ہے، جس کے اثرات نہ صرف وفاقی ملازمین بلکہ پوری امریکی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا ٹرمپ کی یہ مہم کامیاب ہو گی یا اس کے خلاف عدالتوں میں قانونی جنگ شروع ہو گی۔ تاہم، یہ بات واضح ہے کہ امریکی حکومت کی ساخت میں یہ تبدیلی امریکا کے مستقبل کے لیے ایک سنگین چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔