تجزیہ کاروں اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ترکیہ یورپ کی سلامتی کے لیے ایک اہم شراکت دار بن کر سامنے آ رہا ہے۔ یورپ اپنی دفاعی طاقت بڑھانا چاہتا ہے اور امریکا کی تجویز کردہ جنگ بندی کے بعد یوکرین کے لیے ضمانتیں تلاش کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے منصوبے نے یورپی ممالک کو پریشان کر دیا ہے۔ اس منصوبے سے روس کی تنہائی ختم ہو سکتی ہے اور یوکرین پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں، یورپ کو اپنی سلامتی کی خود ضمانت دینے کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے ترکیہ کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا ایک موقع بن گیا ہے، حالانکہ ترکیہ کے ساتھ یونان اور قبرص کے مسائل اور یورپی یونین میں شمولیت کے تنازعات موجود ہیں۔
ترکیہ کے سابق سفارت کار سنان الگن کا کہنا ہے کہ پہلے یورپ ترکیہ کو نظر انداز کر سکتا تھا، لیکن اب ایسا ممکن نہیں۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے بھی کہا کہ وہ یوکرین میں امن اور خطے میں استحکام کے لیے ترکیہ کے لیے ایک تجویز لے کر آئے ہیں۔
ترکیہ کے صدر طیب اردگان نے یوکرین جنگ کے دوران روس اور یوکرین کے درمیان تعلقات کو متوازن رکھا ہے، اس لیے سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ ترکیہ کو بھی ان مذاکرات میں شامل کیا جانا چاہیے۔
ترکیہ نیٹو کا رکن ہے اور اس کے پاس نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج ہے۔ حالیہ برسوں میں اس نے اپنے جنگی طیارے، ٹینک، بحری جہاز اور مسلح ڈرون بنانا شروع کر دیے ہیں، جو یوکرین سمیت کئی ممالک کو فروخت کیے جا رہے ہیں۔
فرانس نے تجویز دی ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی “چھتری” اتحادی ممالک کو فراہم کرے۔ اس کے علاوہ، کچھ یورپی ممالک یوکرین کی مدد کے لیے رضامند ممالک کا ایک گروپ بنانے پر غور کر رہے ہیں۔
اردگان اور ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ یورپ کو ترکیہ کو اپنے دفاعی نظام میں مستقل طور پر شامل کرنا چاہیے، نہ کہ صرف مخصوص منصوبوں میں وقتی طور پر مدد کے لیے۔
ایک ترک اہلکار کے مطابق، یورپ اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے، لیکن ترکیہ کو “یورپی امن سہولت پروگرام” میں شامل کرنا ایک اچھا آغاز ہو سکتا ہے۔ یہ پروگرام یورپی یونین کا وہ اقدام ہے جو یوکرین کی مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔