اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے، مذاکرات کے ذریعے مل بیٹھ کر فیصلے ہوتے ہیں، مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، مذاکرات ذاتی ایجنڈے کو حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ ملکی مفاد میں ہونے چاہیے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں مینگنولیا گرینڈی فلورہ کا پودہ لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پودے لگانا ضروری ہے، موسمیاتی تبدیلی موجودہ وقت میں سب سے بڑا چیلنج ہے، سردار ایاز صادق نے سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد میں 10 لاکھ پودے لگانے کے ٹارگٹ کو سراہا۔
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن نے ایک گھنٹا 21 منٹس کی تقریر کی، وہ باہر جا کر میڈیا سے کہتے ہیں کہ مجھے بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سبزہ زار میں مینگنولیا گرینڈی فلورہ کا پودہ لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔
موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے زیادہ سے زیادہ پودے لگانا ضروری ہے، سردار ایاز صادق
موسمیاتی تبدیلی موجودہ وقت میں سب سے بڑا چیلنج ہے، سردار ایاز… pic.twitter.com/aiVZxCJgN1
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) March 14, 2025
سردار ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن دس منٹ کے لیے ایوان میں آتی ہے، اس کے بعد احتجاج کر کے چلی جاتی ہے۔ اپوزیشن کو عوامی مسائل کے حل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، اپوزیشن کے جانب سے ایوان میں عوامی اہمیت کے حامل جتنے سوالات، توجہ دلاؤ نوٹس دیے گئے ہیں، ان کا ریکارڈ دیا جائے گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ اپوزیشن کے جانب سے عوامی مسائل سے متعلق تمام تر ریکارڈ عوام کے سامنے رکھیں گے، ایوان کو قانون اور پارلیمانی روایت کے مطابق چلائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں اپوزیشن کی جانب سے تنقید کی کوئی فکر نہیں ہے۔
سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کو جعلی کہتی ہے، کیا جعلی پارلیمنٹ میں لیڈر آف اپوزیشن، چیئرمین پی اے سی، قائمہ کمیٹیوں کے چیئر پرسنز کے عہدے، تنخواہیں اور دیگر مراعات لینا جائز ہیں؟

اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہرمسئلے کا حل مذاکرات میں ہے، مذاکرات کے ذریعے مل بیٹھ کر فیصلے ہوتے ہیں، مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، مذاکرات ذاتی ایجنڈے کو حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ ملکی مفاد میں ہونے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی قائم رہے گی، مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہے۔