کراچی میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب رات 2 بج کر 43 منٹ پر شہاب ثاقب کو گزرتے دیکھا گیا اور اس نظارے کو شہریوں نے کیمرے کی آنکھ میں قید کر لیا، جس کے بعد ویڈیو سوشل میڈیا پھر وائرل ہو گئی۔
نظام شمسی میں مریخ اور مشتری کے مدار کے درمیان چکر لگانے والے خلائی پتھر جنہیں ’’ سیارچے ‘‘کہا جاتا ہے بعض اوقات زمین کی طرٖف آجاتے ہیں اور زمین کی فضا سے رگڑ کھانے سے ان میں اتنی حرارت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ جل کر راکھ ہوجاتے ہیں اور اس کی روشنی ہمیں نظر آتی ہے اس کو ہم تارا ٹوٹنے سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ شہاب ثاقب سیارچوں کے ٹوٹے ہوئے ذرات ہوتے ہیں جو زمین کے ماحول میں آتے ہوئے آکسیجن اور کشش کے باعث جلتے نظر آتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین کےگرد مدارمیں کروڑوں کی تعداد میں شہاب ثاقب ہیں، اسے عام زبان میں شوٹنگ اسٹار بھی کہا جاتا ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق شہاب ثاقب کے واقعات سالانہ یا باقاعدگی سے کچھ وقفوں سے ہوتے رہتے ہیں۔
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے مطابق ہر روز زمین پر 100 سے 300 ٹن کے درمیان خلائی مٹی اور پتھروں کی بارش ہوتی ہے مگر ان کا حجم کسی ریت کے ذرے سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔