انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ نے سعودی عرب کے مالی تعاون سے بننے والی عالمی T20 لیگ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس لیگ کو کرکٹ کیلنڈر میں جگہ دینا ممکن نہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے حکومتی سرمایہ کاری فنڈ کی سپورٹ سے بننے والی اس لیگ میں آٹھ ٹیمیں ہوں گی جو مختلف مقامات پر کھیلیں گی۔
تاہم، گولڈ نے اس خبر کو رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ “دنیا بھر میں موجود بین الاقوامی کرکٹ میچز، متعدد فرنچائز کرکٹ لیگز، اور کھلاڑیوں کی بڑھتی ہوئی ورک لوڈ کے مدنظر اس طرح کی لیگ کے لیے جگہ نہیں ہے۔”
ای سی بی کا موقف یہ ہے کہ یہ لیگ نہ تو کرکٹ کیلنڈر کی ضرورت ہے اور نہ ہی کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “ہم اس لیگ کو سپورٹ نہیں کریں گے۔”
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 میں نئی تاریخ رقم، پہلی بار کوئی ٹیم سپر اوور میں 1 رن بھی نہ بنا سکی
ای سی بی کی توجہ اپنی ہی 100 بالز والی لیگ ‘دی ہنڈرڈ’ پر مرکوز ہے جس نے حال ہی میں 1.27 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔
اس کے علاوہ انڈیا پریمیئر لیگ (IPL) کرکٹ کی فرنچائز لیگوں میں سب سے بڑی مثال بن چکی ہے جب کہ جنوبی افریقہ، پاکستان، ویسٹ انڈیز اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک بھی اپنی T20 لیگز کے ساتھ کرکٹ کی دنیا میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب آسٹریلوی کرکٹرز ایسوسی ایشن (ACA) نے اس سعودی عرب کی T20 لیگ کی حمایت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ “ہماری اولین دلچسپی اس تصور کی کھوج میں ہے تاکہ کھلاڑیوں کے مفادات کو بہتر بنایا جا سکے اور مرد و خواتین کرکٹرز کے لیے بہترین معاہدے اور مساوات کا ماڈل قائم کیا جا سکے۔”
یہ اقدام جہاں ایک طرف کرکٹ کی دنیا میں نئی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے وہیں دوسری طرف انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس کی مخالفت اس بات کا غماز ہے کہ عالمی کرکٹ کا مستقبل ایک پیچیدہ جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں بھی شکست کا سامنا