صوبہ بلوچستان گذشتہ کچھ دہائیوں سے دہشتگردی کے لپیٹ میں ہے۔ پہلے یہ دہشت گرد بلوچستان میں عوامی مقامات کو نشانہ بناتے تھے جن میں بسوں کے اڈے، ریلوے اسٹیشنوں بازار وشاپنگ سینٹر ہدف ہوتے تھےلیکن بعد میں ان دہشت گردوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور زیادہ سے زیادہ بے قصور ملازم پیشہ افراد اور معصوم مزدورں کو بے خبری میں نشانہ بنانے لگے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک بلوچستان میں ہزاروں افراد دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہوچکے ہیں۔
ایک دل دہلانے والا واقعہ جو کل پیش آیا یہ واقع سب سے پہلے سوشل میڈیا پہ منظر عام پہ آ یا، ٹارگیٹ کلنگ کرنے والوں نے بلوچستان کے جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنایا ،یہ وہی جعفر ایکسپریس جس کی افتتاحی تقریب سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے کی تھی جعفر خان جمالی قائد اعظم محمد علی جناح کے دوستوں میں ایک بہترین دوست تھے ۔
یہ درست ہے کہ اس خوفناک حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اس طرح کا واقع چند سال پہلے تربت میں بھی پیش آیاتھا تربت شہر سے پندرہ نوجوانوں کو نشانہ بنایا جن کا تعلق پنجاب سے تھا ۔
کچھ ایجنٹ حضرات غیر قانونی طریقے سے ان نوجوانوں کو ایران کے راستے ان کو یورپ تک بھجوانا چاہتے تھے یہ ایجنٹ ہمیشہ بلوچستان کے دشوار گزار راستوں سے ہی غیر قانونی طور پر بارڈر کراس کراتے ہیں پھر ترکی اور ایران بارڈر بھی بہت دشوار گزار علاقوں سے ہوتا ہے حتیٰ کہ یہ پورا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مختلف اداروں کی چیکنگ اور ویزاہ سسٹم سے بچنے کیلئے کیاجاتا ہے۔
بلیدہ تربت ایجنٹوں کا پسندیدہ راستہ ہے اور اس راستے پہ کم خرچہ میں نوجوانوں کو یورپ تک پہنچایا جاتا ہے۔ شاید ان نوجوانوں کی منزل یورپ کے بجائے بلوچستان کی سر زمین پہ کچھ اور ہی لکھی ہوئی تھی۔ابھی اس واقعے کے زخم ٹھنڈے ہی نہیں ہوئے تھے کہ پھر میرا پیارا بلوچستان لہو لہان ہوگیا ہے ، پھر قربانیاں بلوچستان کے حصے میں آئی ہیں وہ بھی میرے پیارے مسلمان بھائیوں کی۔
بلوچستان میں محنت کشوں کے قتل پہ سب کو سخت مذمت کرنی چاہیے ،میڈیا اب تک بلوچستان کی درست تصویر پہنچنے ہی نہیں دیتا ہے۔ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا بلوچستان کے متعلق کم جانتی ہے کیونکہ بلوچستان کے دشوار گزار راستوں پہ کوئی میڈیا گروپ زیادہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ بلوچوں نے پنجابیوں کو نہیں مارا بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانیوں کو مارا ہے، بلکہ ظالموں نے مظلوموں کو مارا ہے ان محنت کشوں کا قتل بالکل درست نہیں ہے۔
اس وقت پنجابیوں کا نہیں بلکہ پاکستانیوں کا قتل ہوا ہے بلوچستان میں جو اس سے قبل مرے وہ بھی بلوچی نہیں پاکستانی تھے۔ ہم سب ایک ہیں ، ہمارا دشمن بھی ایک ہے ۔ بلوچستان کی بنجر پہاڑیوں میں جہاں کوئی جاندار زندہ رہنے کا تصور نہیں کر سکتا وہاں جدید ترین اسلحہ اور گولہ بارود کیسے پہنچتا ہو گا یہ بات ہم سب کو سوچنی چاہیئے آخر ہمارا دشمن کون ہے؟
جعفر ایکسپریس میں مرنے والے سب مظلوم اور مارنے والے سب ظالم اور دہشت گرد تھے ان دہشت گردوں کا تعلق کسی مذہب ، زبان ،علاقے یا قبیلے سے نہیں ہوتا ہے پنجاب کےلوگ بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر آواز اٹھا رہے ہیں بلوچ قاتل ہے بلوچستان کے لوگ قاتل ہےجو قابل تحسین بات نہیں ہے۔ کاش بلوچوں کے قتل اور بم دھماکوں میں شہید ہونے پر بھی یونہی شور اٹھا کرے تاکہ ظلم بند ہو ۔
آج سارا پاکستان اس بہیمانہ قتل کی مذمت کررہا ہے اور بالکل درست کررہا ہے میرا سوال یہ ہے کہ حالات اس نہج تک کیوں پہنچے؟ ہم گذشتہ سات دہائیوں میں بحیثیتِ قوم ٹکڑیوں اور قومیتوں میں بکھرنے کے کافی اثرات دیکھ چکے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ہم لسانیت چھوڑ کر ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں آپکا اصل دشمن آپکو سندھی, بلوچ, پنجابی یا پٹھان سمجھ کے نہیں مار رہا ہے وہ آپکو پاکستانی سمجھ کر مروا رہا ہے۔
یہ حملہ صرف ایک دہشت گرد کارروائی نہیں لگتی بلکہ اس میں منظم منصوبہ بندی نظر آتی ہے۔ اگر ٹرین میں واقعی 100 سے زائد سیکیورٹی اہلکار موجود تھے، تو اس کا مطلب ہے کہ دہشت گردوں کو پہلے سے اطلاع تھی کہ جعفر ایکسپریس ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حملے کا خطرہ موجود تھا تو حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ جعفر ایکسپریس حملہ صرف ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے سیکیورٹی اور اطلاعاتی نظام کی ایک بڑی آزمائش ہے۔
بلوچستان میں رہنے والے لوگ مقامی ہوں یا غیر مقامی ان کے بے بنیاد قتل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ہم اس ظلم کے شکار تمام افراد کے خاندانوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں صبرِ جمیل عطا کرے اور حکومتی اداروں سے اس واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اپیل کرتے ہیں یہ میری نہیں بلکہ بلوچستان کی آواز ہے