اپریل 3, 2025 12:45 شام

English / Urdu

Follw Us on:

کمپنی تو یہی چلے گی 

اظہر تھراج
اظہر تھراج

’ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں بیان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں‘ شاہ جی نے ملتان روڈ کے ڈھابے پر چائے کی چسکی لیتے ہوئے سوال کیا، میں نے ادھر ادھر دیکھا اور جواب دیا کہ یہ تو ٹرمپ کا معمول ہے، میڈیا میں رہنے کا ٹرک ہے، جیسے ’کپتان‘ کا تھا، صبح بات کی شام کو’یوٹرن‘ لے لیا ۔ نہیں۔ چائے کی دوسری چسکی لیتے ہوئے شاہ جی بولے’یہ کوئی روٹین بات نہیں، آپ کو چند دن بات اندازہ ہوجائے گا کہ کیا ہونے والا ہے‘۔ میں بھی ٹھہرا ایک ضدی ایڈیٹراورشاہ جی ایک صحافت کے ’کیڑے‘۔ جھنجلا کے بولے کہ ’پاکستان کی قوم ایک بار پھربکے گی، حکومت اور ادارے ایک بار پھر سہولت کاری کریں گے، یہ کمپنی یوں ہی چلتی رہے گی‘۔

میں اٹھا اور سیدھا دفتر پہنچا توپتا چلا کہ’ جعفر ایکسپریس کو درہ بولان پریرغمال بنالیا گیا ہے‘۔ ٹی وی چینلز پر دیکھا تو مین سٹریم میڈیا پر’سب اچھا ہے‘ کی خبریں چل رہی تھیں۔ مگر ہمارے ذرائع پل پل کی خبر دے رہے تھے جن کو روکا جارہا تھا۔ مین سٹریم میڈیا تو قابو میں تھا سوشل میڈیا پر کچھ ٹھیک تو کچھ فیک خبریں بھی چل رہی تھیں ۔ کچھ خبریں تو’بی ایل اے‘ کے پیجز اور واٹس ایپ نمبرزسے بھی پھیلائی جارہی تھیں۔

ذرا پیچھے گئے تو ایک خبر ایسی بھی تھی جس کا پاکستانی میڈیا کو علم نہیں تھا مگرڈونلڈ ٹرمپ نے کانگرس ارکان کے ساتھ ایک خوشخبری کے طور پر شیئر کیا اور ساتھ ہی پاکستان کا ’شکریہ‘ بھی ادا کیا۔

مسئلہ یہ ہے کہ سب کنٹرول میں ہے سوائے ان کے جن کو کنٹرول کرنا چاہیے۔ تم یہ نہیں بول سکتے، تم یہ نہیں کہہ سکتے،تم یہ لکھوگے تو غدار کہلائے جاؤ گے، یہ بولو گے تو ماردئیے جاؤ گے،فلاں فلاں تمھاری حد ہے اسے عبور کرو گے تو اٹھا لئے جاؤ گے، یہ اپنی مرضی سے بولتا ہے، یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے ، یہ بے ادب مقدس لوگوں پر حرف اٹھاتا ہے، یہ ان کے بارے میں پوچھتا ہے جن کے بارے میں سوال کرنا گناہ ہے، یہ وہ پابندیاں ہیں جن میں پاکستانی معاشرہ جکڑا ہوا ہے۔  مقرر اپنی مرضی سے تقریر نہیں کرسکتا، لکھاری آزادی سے لکھ نہیں سکتا۔ صحافی کے پاس خبر ہوتی ہے لیکن وہ اسے من و عن اپنے قارئین یا ناظرین تک پہنچانے سے قاصر ہے۔

کتنی افسوسناک بات ہے کہ پاکستان بھر میں 17 فروری 2024 سے بند ہونے والی ’ایکس‘ کی سروس تاحال بلا تعطل بحال نہیں ہوسکی ہے، شرمندگی کی بات یہ ہے کہ حکومت کے اہم عہدیدار بھی جواب دینے سے قاصر ہیں اور لاعلم نظر آتے ہیں کہ اسے کیوں بند کیا گیا؟بلکہ اقتدار پارٹی کے رہنماء بھی اس کو کھولنے کے حق میں آواز اٹھاتے  نظر آتے ہیں۔ وہی ایکس کی سروس حکومت وی پی این لگا کے دھڑلے سے استعمال کرتی نظرآتی ہے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ جب عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو ’ففتھ جنریشن‘اور باجوہ ڈاکٹرائن کے بڑے چرچے تھے۔ایک منصوبے کے تحت اس مخصوص نظریے کو نوآموز ذہنوں میں انڈیلا گیا ،اس وقت نوجوانوں کو ’وارئیرز‘قراردیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ جو برتری پاکستان اور اس کے ادارے کو حاصل ہے وہ انڈیا کو بھی نہیں، پھر وقت بدلا،حالات بدلے اور جذبات بھی بدل دئیے گئے۔ جو محب وطن تھے وہ غدار ٹھہرے اور جو کرپٹ تھے وہ’صادق اورامین‘ بن گئے۔ زبان وبیان کل بھی کنٹرول کیا جارہا تھا اور آج بھی ۔
قلم ،مائیک ،کی بورڈ کو کنٹرول میں رکھنے والے چاہتے کیا ہیں؟ ان کی چاہت ہے کہ یہ ان کے قصیدہ خواں بنے رہیں،جو ہم کہیں وہی سنیں،جو ہم بولیں وہی لکھیں، یہ چاہتے ہیں کہ کوئی سوال اٹھانے کے قابل نہ رہے، یہ چاہتے ہیں کہ کوئی دانش کی بات نہ کرسکے، یہ چاہتے ہیں کہ جو ہم کہیں اسی کو سچ سمجھ کر قبول کیا جائے، یہ بڑی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں، عہد حاضر کے بچے دس سال سے پیچھے نہیں سوچتے ،یہ بچے ’’لانگ ٹرم میموری لاس‘‘ کا شکار ہوچکے ہیں، 10 سال سے پیچھے ان کے دماغ بند ہوجاتے ہیں۔ پہلے کیا سے کیا ہوتا رہا؟ کچھ بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتا ۔

یہ ایک  سوچ اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ۔ اداروں کو بانجھ کرنے ،ذہنوں کو قید کرنے کا کام تین دہائیاں پہلے شروع کیا گیا اب اس کا پھل اٹھا رہے ہیں ۔ایک ایک کرکے عقل وشعور کی بات کرنے والے ادارے بانجھ بنادیے گئے،اب وہ انقلابی شاعر نہیں ملیں گے جن کے ایک ایک مصرعے پرشرکاء میں زلزلہ پیدا ہوجاتا ،اب وہ لکھاری نہیں رہے جن کے جملے دستور بن جاتے،اب وہ طلباءنہیں جن کے نعروں سے ایوان کانپتے تھے،اب تو تعلیمی ادارے برائلر پالنے والے مرغی فارم بن چکے ہیں جن کے تیار کردہ بچے خود اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ ہم ایک ہجوم بن گئے ایک قوم نہ بن سکے۔
کچھ چیدہ چیدہ پرانے لوگ رہ گئے ہیں ان کو بھی بزور طاقت جھکانا چاہتے ہیں، ان کو ڈرایا جارہا ہے، دھمکایا جارہا ہے، پھر بھی باز نہیں آئے تو سوشل میڈیا پر رلایا جارہا ہے۔

سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے

ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے

یہی کام انڈیا کا مودی کرتا ہے تو ہم اسے فسطائی کہتے ہیں۔ یہی کام امریکا کا ٹرمپ کرتا ہے تو ہم ’گالیاں‘ دیتے، یہی کام اسرائیلی نیتن یاہو کرتا تو اسے ہم کیا سے کیا کہتے۔ ہمیں اپنا سچ سچ کیوں لگتا ہے؟ کسی دوسرے کا سچ سننے کا بھی دل گردہ ہونا چاہئے۔

شاہ جی کی باتوں میں کمال تھا، چائے میں جتنی کڑواہٹ تھی اس سے کہیں زیادہ شاہ جی کی باتوں میں تھی، وہ کہتے گئے ہم سنتے گئے، وہ فرما رہے تھے’امریکا نے موجودہ بندوبست کو قبول کرلیا ہے، یہ بندوبست افغانستان کے خلاف ’اسلحہ وصولی‘ کے لیے استعمال ہوگا۔ یعنی’کمپنی تو یہی چلے گی‘۔ کیا آپ کوبھی یہی لگتا ہے؟۔

 

اظہر تھراج

اظہر تھراج

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس