اپریل 5, 2025 1:21 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

امریکی جج نے ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر، ٹرانس جینڈر کو روک دیا

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
ٹرمپ نے جج کے وفاقی کارکن کی بحالی کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا( فائل فوٹو)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک  ایگزیکٹو آرڈر  پاس  کیا تھا کہ ٹرانس جینڈر میں خدمات سرانجام نہیں دے سکتے، اس پر عمل درآمد ہونے کے لیے ایک وفاقی جج نے عارضی طور پر روک دیا ۔

عالمی خبر ارساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک وفاقی جج نےامریکی فوج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد سے عارضی طور پر روک دیا، جو خواجہ سرا افراد کو فوج میں خدمات انجام دینے سے منع کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے 20 موجودہ اور ممکنہ فوجی اہلکاروں کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کے دوران آیا ہے، جو اس پابندی کو سامنا کر رہے ہیں۔

واشنگٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج آنا ریز نے پایا کہ ٹرمپ کا 27 جنوری کا حکم نامہ، جو ریپبلکن صدر کی جانب سے امریکی خواجہ سرا افراد کے قانونی حقوق کو محدود کرنے کے لیے جاری کیے گئے کئی احکامات میں سے ایک ہے، امریکی آئین میں دیے گئے صنفی امتیاز کی ممانعت کے اصول کی ممکنہ طور پر خلاف ورزی کرتا ہے۔

جج ریز نے اپنے فیصلے میں کہا، یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ہزاروں خواجہ سرا فوجیوں نے دوسروں کے مساوی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر خدمات انجام دیں، لیکن اب اسی برابری کے حق سے انہیں محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مدعیان کے وکیل جینیفر لیوی نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کن اور تیزی سے قدم اٹھایا،یہ فیصلہ واضح طور پر اس پابندی کے نقصانات کو اجاگر کرتا ہے جو بہادر خواجہ سرا فوجیوں پر مسلط کی جا رہی ہے، جو محض عزت کے ساتھ اپنی قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے نمائندوں نے فوری طور پر اس فیصلے پر تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ ٹرمپ کے حکم نامے کے جواب میں، فوج نے 11 فروری کو اعلان کیا تھا کہ وہ اب مزید خواجہ سرا افراد کو بھرتی نہیں کرے گی اوراسی ماہ کے آخر میں فوج نے کہا کہ وہ خواجہ سرا اہلکاروں کو فوج سے نکالنے کا عمل شروع کرے گی۔

ٹرمپ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ کسی فرد کی اصل جنس کے برخلاف صنفی شناخت اپنانا فوجیوں کی دیانت، سچائی اور نظم و ضبط پر مبنی زندگی کے اصولوں سے متصادم ہے، چاہے وہ ذاتی زندگی میں ہی کیوں نہ ہو۔

جج ریز نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومت نے خود تسلیم کیا ہے کہ مدعیان بہترین فوجی ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ خواجہ سرا افراد میں بھی وہی جنگی جذبہ، جسمانی اور ذہنی مضبوطی، ایثار، عزت، دیانت اور نظم و ضبط ہوتا ہے جو فوجی معیار کے لیے ضروری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تو پھر انہیں اور دیگر نمایاں فوجیوں کو کیوں نکالا جا رہا ہے؟ دفاعی فریق کی طرف سے اس اہم سوال پر مکمل خاموشی چھا رہی۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے اس طرح کا حکم جاری کیا ہو۔ اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی انہوں نے ایک ایسا ہی ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، تاہم اس میں پہلے سے خدمات انجام دینے والے خواجہ سرا فوجیوں کو فوج میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔

اس مقدمے کے مدعیان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ حکم غیر قانونی ہے اور انہوں نے 2020 میں امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں قرار دیا گیا تھا کہ خواجہ سرا افراد کے خلاف ملازمت میں امتیازی سلوک غیر قانونی صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔

حکومتی وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ فوج کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کچھ مخصوص طبی حالات کے حامل افراد کو فوجی خدمات کے لیے نااہل قرار دے، جیسا کہ بائی پولر ڈس آرڈر یا ایٹنگ ڈس آرڈر میں مبتلا افراد کے لیے کیا جاتا ہے۔

تاہم، جج ریز نے بار بار ان سے اس مؤقف کے حق میں ثبوت فراہم کرنے کو کہا اور بعض اوقات ٹرمپ کے حکم نامے میں خواجہ سرا افراد کے کردار کو کم تر دکھانے والے الفاظ پر کھلے عام برہمی کا اظہار کیا۔

محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی فوج میں تقریباً 13 لاکھ فعال فوجی اہلکار موجود ہیں۔ خواجہ سرا حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فوج میں 15 ہزار تک خواجہ سرا اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی اصل تعداد چند ہزار کے قریب ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس