اپریل 4, 2025 4:25 شام

English / Urdu

Follw Us on:

کیا پیسوں سے خوشیاں خریدی جاسکتی ہیں؟

مادھو لعل
مادھو لعل

نامور شاعر کامل شطاری نے کہا تھا کہ ‘کیا پوچھتے ہو مجھ سے میرے دل کی آرزو۔۔ اب میری ہر خوشی ہے تمھاری خوشی کے ساتھ’۔

خوشی انسانی زندگی کا ایک بنیادی جذباتی پہلو ہے، جو ہر فرد کے تجربات اور حالات کے مطابق مختلف شکلیں اختیار کرتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج عالمی خوشی کا دن منایا جارہا ہے، جس کا مقصد لوگوں میں خوشی کے جذبات کو فروغ دینا اور انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ خوشی صرف ایک ذاتی تجربہ نہیں، بلکہ یہ ایک سماجی رویہ بھی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12 جولائی 2012 کو 20 مارچ کو خوشی کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا اور 2013 میں پہلی بار اس دن کو باضابطہ طور پر منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں خوشی کی اہمیت کو اجاگر کرنا، افراد کی خواہشات کو تسلیم کرنا، وقتی رنجشوں کو بھلانا، اور ذہنی سکون کو فروغ دینا ہے۔

یہ سال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دیرپا خوشی ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرنے، جڑے رہنے اور کسی بڑی چیز کا حصہ بننے سے حاصل ہوتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ خوشی درحقیقت ہے کیا؟ کیا اس کا حصول ممکن ہے؟ اور کیا محض ایک دن منانے سے خوشی حاصل کی جا سکتی ہے؟

ماہرینِ نفسیات کے مطابق خوشی ایک پیچیدہ اور ذاتی تجربہ ہے، جو ہر فرد کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ کچھ افراد کے لیے خوشی کا مطلب ذہنی سکون ہے، جب کہ کچھ کے لیے یہ دولت، کامیابی، یا پسندیدہ افراد کے ساتھ وقت گزارنے سے جڑی ہوتی ہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فار ویمن کی کلینیکل سائیکالوجسٹ اور پروفیسر شمائلہ مہناز نے ‘پاکستان میٹرز’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خوشی کا براہِ راست تعلق دماغ سے ہے۔ جب کوئی خوش ہوتا ہے، تو اس کے دماغ کو سکون اور جسم کو راحت ملتی ہے۔ خوشی نہ صرف ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہے، بلکہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی نکھارتی ہے۔ اگر انسان مثبت سوچ رکھے اور ان کاموں میں خود کو مصروف رکھے جو اسے خوشی دیتے ہیں، تو وہ زیادہ پُرسکون اور صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔

مگر اس سے سوال نے جنم لیا ہے کیا خوشی کا مطلب صرف ذہنی سکون ہے؟

پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ نفسیات کی طالبہ زینب اقبال کے مطابق خوشی کا اصل مطلب ذہنی سکون ہے اور یہ ہر فرد کے لیے مختلف ہو سکتی ہے۔ بعض لوگوں کے لیے خوشی ان کے پیاروں سے جڑے رہنے میں ہے، جبکہ بعض کے لیے خوشی کا دارومدار دولت اور مادی سہولیات پر ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہ کہ ٹیکنالوجی اور جدید طرزِ زندگی نے جہاں سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں اس نے انسان کو ایک مشین بھی بنا دیا ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت۔۔۔ احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

انسان نے خود کو ایسی ذہنی الجھنوں اور اداسی میں مبتلا کر لیا ہے جس کی بظاہر کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔ ڈیجیٹل ترقی نے ہمارے سوشل نیٹ ورکس کو وسیع کر دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی ذہنی دباؤ اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات نے خوشی کے حصول کو مشکل بنا دیا ہے۔

یہ بحث طویل عرصے سے جاری ہے کہ آیا دولت خوشی لا سکتی ہے یا نہیں۔ ماہرین کی رائے اس بارے میں تقسیم ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ بنیادی ضروریات اور مالی استحکام خوشی کے لیے ناگزیر ہیں، جبکہ دیگر ماہرین کا ماننا ہے کہ حقیقی خوشی معاشرتی تعلقات، ذہنی سکون اور اندرونی اطمینان میں ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ کے مطابق پیسہ خود خوشی نہیں لا سکتا، مگر یہ زندگی میں آسانیاں پیدا کر سکتا ہے۔ جب زندگی میں آسانی ہو، تو ذہنی سکون حاصل کرنا ممکن ہوتا ہےاور ذہنی سکون ہی اصل خوشی ہے۔

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں زیادہ خوشحال ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ان کی بہتر تعلیمی سہولیات، معیاری طرزِ زندگی، اور آخرت کی فکر سے آزاد رویہ بتایا جاتا ہے۔

پروفیسر شمائلہ مہناز کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور دوسروں کے معاملات میں بے جا مداخلت نہیں کرتے۔ اس کے برعکس، ترقی پذیر ممالک میں خوشی زیادہ تر خاندانی اور سماجی روابط پر منحصر ہوتی ہے۔”

ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق، وہ ممالک جہاں سماجی انصاف، صحت کی سہولیات اور معاشی استحکام موجود ہیں، وہاں خوشی کی سطح بلند ہوتی ہے۔ تاہم، ترقی پذیر ممالک میں خاندانی اور سماجی تعلقات کی مضبوطی کی وجہ سے لوگ زیادہ مطمئن محسوس کرتے ہیں۔

زینب اقبال کے مطابق ہم نے سوشل میڈیا پر دوست بنا لیے ہیں، مگر اپنے حقیقی رشتوں سے دور ہو گئے ہیں۔ ہمارا قیمتی وقت، جو ہمارے خاندان کا حق ہے، ہم سوشل میڈیا کو دے رہے ہیں۔ آج ہماری خوشی ایک میسج یا ایک ریپلائی پر منحصر ہو گئی ہے۔ ہم جتنا سوشل میڈیا پر وقت گزارتے ہیں، اتنا ہی ذہنی سکون کھوتے جا رہے ہیں۔”

ماہرین کا کہنا ہے کہ خوشی کوئی مستقل چیز نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ خوشی کو بڑھانے کے لیے مثبت سوچ اپناناچھوٹی چھوٹی خوشیوں کو سراہناشکرگزاری کی عادت اپناناعبادات میں وقت گزارنا اور اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا ضروری ہے۔

پروفیسر شمائلہ مہناز کے مطابق انسان تب تک خوش نہیں رہ سکتا، جب تک وہ یہ تہیہ نہ کر لے کہ اس نے خوش رہنا ہے۔ خوشی کا راز دوسروں کی خوشی میں خوشی محسوس کرنا اور مثبت طرزِ فکر اپنانا ہے۔

عالمی یومِ خوشی ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اصل خوشی دولت یا مادی سہولیات میں نہیں، بلکہ ذہنی سکون اور اچھے تعلقات میں ہے۔ ہمیں اپنی خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹنا چاہیے، کیونکہ ‘شیئرنگ از کیئرنگ’ یعنی خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ مزید یہ کہ دوسروں کے کام آنا ہے۔

مادھو لعل

مادھو لعل

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس