اپریل 4, 2025 4:24 شام

English / Urdu

Follw Us on:

پنجاب حکومت نے مفت وائی فائی سروس کو جدید ٹیکنالوجی سے اپ گریڈ کردیا

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
پنجاب حکومت نے مفت وائی فائی سروس کو Wi-Fi 6 ٹیکنالوجی سے اپ گریڈ کردیا

پنجاب حکومت نے اپنی مفت وائی فائی سروس کو مزید جدید اور تیز تر بنانے کے لیے ایک اقدم اٹھایا ہے۔ اس سروس میں اب جدید ترین Wi-Fi 6 ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا جو صارفین کو پہلے سے زیادہ تیز اور مستحکم انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرے گی۔

یہ تبدیلی نہ صرف لاہور بلکہ صوبے کے دیگر شہروں تک بھی پہنچ چکی ہے جس سے لاکھوں افراد کو فائدہ ہو گا۔

لاہور میں جہاں پہلے 200 مفت وائی فائی ہاٹ اسپاٹس موجود تھے اب ان کی تعداد 230 تک بڑھا دی گئی ہے۔

اس سے لاہور کے شہریوں کو بہتر انٹرنیٹ کی سہولت ملے گی۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت اب انٹرنیٹ کا استعمال زیادہ تیز اور مستحکم ہو گا اور خاص طور پر شہر کے اہم مقامات پر وائی فائی سروس کا معیار مزید بہتر ہوگا۔

پنجاب کی سیف سٹیز اتھارٹی نے اس سروس کو 11 اضلاع تک بڑھا دیا ہے جن میں لاہور، قصور، نانکانہ صاحب، شیخوپورہ، سیالکوٹ، گجرات، جہلم اور اٹک شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صوبہ سندھ میں خسرہ کی وبا شدت اختیار کر رہی ہے: 17 بچوں کی ہلاکت

اس کے علاوہ ساہیوال، اوکاڑہ اور مری جیسے علاقوں میں بھی اہم مقامات پر یہ سروس فراہم کی جا رہی ہے۔

سیف سٹیز اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ مفت وائی فائی سروس جلد ہی پورے صوبے میں دستیاب ہو گی جس سے مزید افراد فائدہ اٹھا سکیں گے۔

اب تک اس سروس سے 17.7 ملین سے زائد صارفین نے استفادہ کیا ہے اور مجموعی طور پر 438 ٹیرا بائٹس ڈیٹا استعمال کیا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ مقامی باشندوں نے اس سروس کی تعریف کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سہولت ان کی روزمرہ کی زندگی کو نہ صرف آسان بلکہ زیادہ مؤثر بھی بنا رہی ہے۔

سیف سٹیز اتھارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ مفت وائی فائی سروس صرف ایمرجنسی مقاصد کے لیے دستیاب ہے اور اس کا استعمال ویڈیو اسٹریمنگ یا تفریحی مقاصد کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔

اس سروس کا مقصد شہریوں کو ایسے حالات میں مدد فراہم کرنا ہے جب وہ ایمرجنسی میں ہوں یا ضروری معلومات تک رسائی کی ضرورت ہو۔

لازمی پڑھیں: جدید پاسپورٹ سسٹم: پاکستان جرمنی سے ‘ہائی ٹیک ای-پاسپورٹ’ درآمد کرے گا

پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اس منصوبے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صوبے کو ڈیجیٹل مرکز بنانے کی جانب ایک اور قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ “ہمیں اپنے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے تیار کرنا ہے تاکہ وہ عالمی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو سکیں۔”

مریم نواز نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے تعلیمی اداروں میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کے لیے حکومت نے منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

اسی مقصد کے لیے حکومت پنجاب نے سرکاری سکولوں میں سمارٹ کلاس رومز اور ڈیجیٹل لیبز بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ طلباء کو جدید تعلیمی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

اس کے علاوہ، پنجاب میں بین الاقوامی معیار کے آئی ٹی کورسز جیسے کہ مصنوعی ذہانت (AI)، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور فری لانسنگ کی تعلیم بھی فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ نوجوان نسل عالمی سطح پر اپنی مہارتوں کا لوہا منوا سکے۔

یہ منصوبہ نہ صرف پنجاب کو ایک ڈیجیٹل مرکز میں تبدیل کرنے کی جانب اہم قدم ہے بلکہ اس سے صوبے کے نوجوانوں کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی تیاری بھی فراہم ہو گی۔

مزید پڑھیں: سابق کمشنر کی بیٹی نے پی آئی اے کی ایئر ہوسٹس پر حملہ کرکے زخمی کر دیا

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس