اپریل 3, 2025 12:47 شام

English / Urdu

Follw Us on:

پاکستانی معیشت کا ‘انجن’ کہلانے والا پراپرٹی کا کاروبار زبوں حالی کا شکار کیوں ہے؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پاکستانی معیشت کے لیے ایندھن کا کردار ادا کرتی ہے
رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پاکستانی معیشت کے لیے ایندھن کا کردار ادا کرتی ہے۔ (فوٹو: فری پک)

ایک وقت تھا جب رئیل اسٹیٹ کاروبار پاکستان میں بہت منافع بخش ہوا کرتا تھا مگر گزشتہ چند برس میں سیاسی عدم استحکام اور گرتی ہوئی معیشت کے سبب رئیل اسٹیٹ  نے بھی بڑا نقصان اٹھایا ہے۔ ماضی میں ہونے والے شرح سود کے اضافے کے باعث رئیل اسٹیٹ کاروبار کافی متاثر ہوا۔ جہاں سال 2024 میں مہنگائی کے سبب تمام بزنسز  شدید نقصان میں رہے وہیں دوسرے کاروباروں کی نسبت رئیل اسٹیٹ نسبتاً کم نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران رئیل اسٹیٹ بزنس میں نمایاں تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں۔

مئی 2023 میں ورلڈ بینک کے لگائے گئے تخمینے میں ملکی دولت کا 60 سے 70 فیصد حصہ پاکستانی رئیل اسٹیٹ اکانومی کا تھا جو تقریبا 700 بلین ڈالر بنتا تھا۔ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ جی ڈی پی کے تقریبا 2.8 فیصد پر مشتمل تھی۔رئیل اسٹیٹ کی ابتدا پاکستان کی آزادی سے پہلے کی ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل بند روڈ کے قریب پرانےکراچی میں رئیل اسٹیٹ ایجنسیاں موجود تھیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد شہروں کی جانب نقل مکانی سے رئیل اسٹیٹ کاروبار بڑھا اورضلع جنوبی کراچی رئیل اسٹیٹ کی ریڑھ کی ہڈی بنا۔

 ڈی ایچ اے کراچی 50 کی دہائی میں بنایا گیا تھا۔ رئیل اسٹیٹ میں بڑا منافع 1973 میں بھٹو حکومت میں ایمنسٹی اسکیم کے آغاز کے بعددیکھنے کو ملا مگر 1977 میں  انتخابات اور ڈی ایچ اے میں تباہ کن سیلاب کے بعد رئیل اسٹیٹ بری طرح ناکام ہوئے۔ 

موجودہ رئیل اسٹیٹ کی بنیاد 90 کی دہائی میں رکھی گئی۔ 1992 میں مارکیٹ میں رئیل اسٹیٹ نے کامیابی سمیٹی مگر 1997 میں زوال کا شکار ہوگئی۔ 2013 میں ایک بار پھر رئیل اسٹیٹ نے اپنے قدم جمالیے۔  2015 میں رہائشی پلاٹوں میں 5 سے 7 فیصد جبکہ کمرشل پراپرٹی میں 15 سے 20 فیصد تک حیران کن منافع ہوا۔ کورونا، سیاسی عدم استحکام اور ڈگمگاتی ملکی معیشت کے سبب 2019 کے بعد ایک بارپھررئیل اسٹیٹ کی کمر ٹوٹ گئی۔  چھوٹے رئیل اسٹیٹ تاجروں کو گزشتہ برسوں میں بہت زیادہ نقصان پہنچاہے ۔

نجی خبر رساں ادارے اردو پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق آل پاکستان رئیل اسٹیٹ کے ماہر حسام علی کا کہنا ہے کہ 2024  کےپہلے 6 مہینے میں مہنگائی کی شرح اوسط 2.30فیصد تھی۔ باقی کاروبار کی نسبت رئیل اسٹیٹ میں خاصی لچک رہی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں معاشی بدحالی کے باوجود رئیل اسٹیٹ کی قدر برقرار رہی۔ رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں افراطِ زر کے ساتھ بڑھتی ہیں۔ ملک میں پراپرٹی قلیل مدتی وطویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے بہت سے مواقع  پیش کرتی ہے۔

رئیل اسٹیٹ پلیٹ فارم زمین ڈاٹ کام کے مطابق گزشتہ دہائی میں لاہور،اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں رہائشی املاک کی قیمتوں میں 10 سے 15 مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ جرمن شماریاتی پورٹل سٹیٹسٹا کے مطابق 2025 میں پاکستانی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کا 2.03ٹریلین ڈالر پر پہنچنے کا امکان ہے۔ سالانہ شرح نمو 3.75فیصد ہونے کی توقع کی گئی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ2029 میں 2.41ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ رئیل اسٹیٹ کے مثبت و منفی دونوں اثرات پائے جاتے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کے فوائد یہ ہیں کہ ایک تو اس سے روزگار پیدا ہوتا ہے اوردوسرا منافع سرمایہ کاروں کو راغب کرتا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کریں۔ انفراسٹرکچرکی بہتری اور پلاٹوں  کے لین دین سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوتا ہے۔

رئیل اسٹیٹ کم آمدنی والے طبقے پر گہرے اثر چھوڑتا ہے۔ قیمتوں کے بڑھ جانے سے نچلاطبقہ اپنے خود کے گھر نہیں بنا سکتا۔غیر قانونی قبضے اور رشوت خوری جیسی سماجی برائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ کارخانے لگانے سے پیسہ بڑھتا ہے۔ پیسے کی ریل پیل ہوتی ہے مگررئیل سٹیٹ کے کاروبار میں پیسہ منجمد ہوجاتا ہےجو کہ ملکی معیشت کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے۔

سینئرصحافی اور ڈائریکٹررائٹ پلیس مارکیٹنگ لاہور مناظرعلی نے پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ” ،یہاں اربوں روپے کا سرمایہ کاری کا عمل دخل ہوتا ہے اور لاکھوں افراد کا چولہا رئیل اسٹیٹ سے ہونے والی آمدن سے چلتاہے۔ سرمایہ کاروں کے علاوہ اس سے وابستہ دفاتر اور کنسٹرکشن کمپینوں کے ملازمین بھی اسی روزگار کے چلنے سے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔  مگر پچھلے کچھ عرصے سے اس مارکیٹ میں خاصی مندی دیکھی جارہی ہے،اس کی سب سے بڑی وجہ ٹیکسز کی بھرمار ہے جس وجہ سے سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری سے منہ پھیر لیا ہے اور نتیجتا مارکیٹ میں مندی ہے”۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ “2025 کو رئیل سٹیٹ مارکیٹ میں پھر بہتری کا سال قرار دیاجارہاہے۔ ٹیکسز میں کسی حد تک کمی آرہی ہے اور کچھ نئے پروجیکٹس شروع ہونے سے بھی مارکیٹ میں ہلچل کی صورتحال نظر آرہی ہے،ان دنوں الغنی ڈویلپرز نے اپنا فیز سیون لانچ کیا ہے،اسی طرح آنے والے دنوں میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض بھی دبئی میں ایک بڑا پروجیکٹ لانچ کرنے جارہے ہیں،کہاجارہاہے کہ پاکستان کے بڑے سرمایہ کار بھی دبئی میں بھاری سرمایہ کیلئے تیاری کررہے ہیں،یہ پروجیکٹ بھی پاکستانی رئیل سٹیٹ مارکیٹ میں تیزی کا باعث بن سکتاہے”۔

مناظر علی  نے کہا کہ “مجموعی طورپر اگر بات کی جائے تو اب پراپرٹی خریدنے کا وقت ہے،بیچنے کا نہیں۔ 2025 کے آغاز میں جن لوگوں نے پراپرٹی خریدنے کافیصلہ کرلیا ہے وہ سال کے آخر میں یا پھر دوہزار چھبیس میں کئی گنا منافع کماسکتے ہیں۔ اس مارکیٹ میں وہی لوگ زیادہ منافع کماتے ہیں جنہیں سرمایہ کاری کرنے کے وقت کا اندازہ ہوتاہے اور کہاں سرمایہ کاری کرنی ہے یہ بھی معلوم ہوتاہے۔ لہذا عام آدمی کو بھی یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اگر کچھ خریدنا ہے تو ابھی وقت ہے خرید لیں”۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس