اپریل 5, 2025 4:13 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

نئی نہریں، پرانا تنازع: گرین پاکستان انیشیٹو کی حقیقت کیا ہے؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

‘گرین پاکستان انیشیٹو’ جس کا مقصد ملک میں جدید زرعی فارمنگ کو فروغ دینا اور بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانا ہے، آج ایک بڑے تنازعے کا شکار ہو چکا ہے۔

حالیہ کچھ مہینوں سے گرین پاکستان انیشیٹو اور سندھ سے نکالی جانے والی متنازعہ نہروں کا مسئلہ شدت اختیار کرچکا ہے، سندھی عوام اور حکومت کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے دریائے سندھ سے نکالی جا نے والی نہروں پر شدید مخالفت کی جارہی ہے۔

آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟ وہ پیپلز پارٹی جو کبھی اس منصوبے کے حق میں تھی اب مخالف کیوں؟ آخر یہ گرین پاکستان منصوبہ ہے کیا؟

یہ بات ہے جون 2023 کی جب حکومتِ پاکستان نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) قائم کی۔ جس میں متعلقہ حکومتی اداروں کے علاوہ فوج کے سربراہان کو بھی شامل کیا گیا۔

اس کے تحت ‘گرین پاکستان انیشیٹو’ کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد جدید زراعت کو فروغ دینا اور ملکی زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا تھا۔ گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت چولستان، تھل اور دیگر بنجر علاقوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا ، جن میں 211 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی چولستان کنال بھی شامل ہے۔

یہ 176 کلومیٹر طویل نہر سلیمانکی ہیڈورکس سے فورٹ عباس تک تعمیر کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ دریائے ستلج سے پانی لے گی، نہ کہ دریائے سندھ سے، اس لیے سندھ کے پانی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

مگر دریائے ستلج تو خود پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے ، کیسے ممکن ہے کہ وہ چولستان کی صحرائی زمین کے لیے پانی مہیا کرے؟ سندھی عوام کی جانب سے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

بنجر زمین کو آباد کرنے کے اس منصوبے سے ہماری سرسبز زمینیں بنجر ہو جائیں گی، یہ کون سی عقل مندی ہے۔ پہلے ہی پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث اہم فصلوں کی پیداوار میں غیر معمولی کمی ہو رہی ہے۔” یہ کہنا ہے ایوانِ زراعت سندھ کے جنرل سیکریٹری زاہد بھرگڑی کا جن کی فصل کا دارومدار نہری پانی پر ہے جو اُن کے بقول ہر گزرتے سال کے ساتھ کم ہو رہا ہے۔

گرین پاکستان انیشٹو تو زراعت کو جدید اور کم خرچے میں زیادہ پیداوار کا منصوبہ ہے، پھر جنرل سیکرٹری ایوانِ زراعت سندھ نے ایسا کیوں کہا کہ اس منصوبے سے زمینیں بنجر ہو جائیں گی؟

پاکستان پیپلز پارٹی، جو کبھی اس منصوبے کی حامی تھی، اب اس کی سخت مخالف بن چکی ہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دسمبر 2024 میں دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کے حکومتی فیصلے کو یکطرفہ اور متنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے کہ وہ ایسے فیصلے کریں جو متنازع ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ کالا باغ ڈیم کی طرح یہ فیصلہ بھی یکطرفہ ہے۔

پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری نے بھی دریائے سندھ سے 6 نئی نہریں نکالنے کے فیصلے کو ارسا ایکٹ اور 1991ء کے پانی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ایسے فیصلوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے سی سی آئی کا اجلاس طلب نہ کرنا آئینی خلاف ورزی ہے۔

مگر صدر آصف علی زرداری کی جانب سے اس پر واضح طور پر کوئی بیان نہیں دیا گیا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی کچھ یک طرفہ پالیسیاں وفاق پر شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہیں، خاص طور پردریائے سندھ کے نظام سے مزید نہریں نکالنے کی یکطرفہ تجویز کی بطور صدر میں حمایت نہیں کر سکتا۔ حکومت اس موجودہ تجویز کو ترک کرے، تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ متفقہ اتفاق رائے کی بنیاد پر قابل عمل اور پائیدار حل نکالا جاسکے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی 1950 کی دہائی میں 5000 کیوبک میٹر تھی، جو 2018 تک 1000 کیوبک میٹر سے بھی کم ہو چکی ہے۔ ایسے میں اگر مزید پانی چولستان کی طرف موڑا گیا، تو سندھ کی زراعت شدید متاثر ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد جدید کارپوریٹ فارمنگ کے ساتھ ساتھ چھوٹے کسانوں کی مدد کرنا ہے، جو پاکستان کے زرعی شعبے کا 95 فیصد ہیں۔ اب تک 0.9 ملین ایکڑ اراضی الاٹ کی جا چکی ہے، جس میں پنجاب میں 811,619 ایکڑ، سندھ میں 52,713 ایکڑ، بلوچستان میں 47,606 اور خیبرپختونخوا میں 74,140 ایکڑ اراضی شامل ہے۔ چولستان میں کارپوریٹ فارمنگ شروع ہو چکی ہے اور اب تک دو لاکھ ایکڑ اراضی کا معاہدہ ہو چکا ہے۔

مگر یہاں سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ منصوبہ چھوٹے کاشتکاروں کے مفاد کے لیے بنایا گیا ہے؟ پیپلز پارٹی کے اس منصوبے کی مخالفت کی وجہ عوامی فکر ہے یا پھر کوئی سیاسی چال اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس