اپریل 4, 2025 4:25 شام

English / Urdu

Follw Us on:

یومِ پاکستان: کیا ہم مملکت کے قیام کا اصل مقصد حاصل کرچکے ہیں؟

مادھو لعل
مادھو لعل

پاکستان بھر میں ہر سال  23 مارچ کو یومِ پاکستان منایا جاتا ہے اور اس سال بھی یہ ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد قوم کو قیامِ پاکستان کی یاد دلانا، تحریکِ پاکستان کے مقاصد کو یاد دلانا اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔

اس دن کی ملک بھر میں خصوصی تقریبات، فوجی پریڈز اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ملک بھر میں قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں، جب کہ تعلیمی اداروں میں تقریری مقابلے اور ملی نغموں کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ سیاسی رہنما جلسے جلوسوں میں ملکی سلامتی اور ترقی کے بھاشن دیتے نظر آتے ہیں۔

صدرِ مملکت، وزیرِاعظم اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے قوم کو پیغام دیا جاتا ہے۔ فوجی پریڈز منعقد کی جاتی ہیں، جہاں عسکری حکام سمیت سیاسی رہنما شرکت کرتے ہیں۔

یومِ پاکستان 23 مارچ 1940 کی یاد دلاتا ہے، جب آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں قراردادِ لاہور منظور کی گئی تھی۔ اس قرارداد میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو بعد میں قیامِ پاکستان کی بنیاد بنا۔ اسی دن کو یادگار بنانے کے لیے ہر سال پورے ملک میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

اس قرارداد کو شیرِ بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کیا تھا، مگر بدقسمتی سے ان کا مشرقی پاکستان آج پاکستان کا حصہ نہیں اور یہ وطنِ عزیز پر ایک ایسی چوٹ ہے جو مٹائے نہیں مٹنی۔ نصیر ترابی نے کہا تھا کہ ‘عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھیں مگر۔۔۔ بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا بے وفائی نہ تھی۔’

اس وطنِ عزیز کے لیے ہمارے بزرگوں نے لاکھوں قربانیاں دیں، شدھی اور سنگٹھن جیسی تحریکوں کا سامنا کیا، نسلی پرستی کو چھوڑ کر ایک ہوئے اور ایک علیحدہ ملک حاصل کیا۔

اگر پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ دہشتگردی اور نسل کشی عروج پر پہنچ چکی ہے، غریب پر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔   تو کیا اسی لیے اس ملک کے قیام کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں؟ کیا آج کا پاکستان واقعی قرار دادِ مقصد کی تکمیل کرچکا ہے؟

‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے روزنامہ مشرق کے ایڈیٹر اشرف سہیل نے کہا ہے کہ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کو جن عظیم مقاصد کے لیے حاصل کیا گیا، ہم بحثیت قوم ان سے ابھی تک بہت دور ہیں۔

قیامِ پاکستان سے قبل ہندؤں کی تنگ نظری انتہا پر تھی، انگریز مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے، مسلمان کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ سرسید احمد خان نے دو قومی نظریہ پیش کیا اور کہا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں، یہ اپنی روایات، رسم و رواج اور عقائد میں اس قدر مختلف ہیں کہ صدیوں  اکٹھے رہنے کے باوجود ایک دوسرے میں  گھل مل نہ سکیں۔

علامہ محمد اقبال نے ایک علیحدہ مملکت کا خواب دیکھا، جسے قائدِاعظم محمد علی جناح نے شرمندہ تعبیر کیا۔ 8 مارچ 1944 کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے قائدِاعظم نے کہا کہ:

پاکستان تو اسی دن وجود میں آگیا تھا، جب ہندوستان کا پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا، مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے، وطن اور نسل نہیں۔

اشرف سہیل نے کہا ہے کہ قیامِ پاکستان دراصل ہندو اکثریت کی تنگ نظری کا ردِعمل تھا۔ پاکستان بننے کے بعد یہ تنگ نظری مسلمان اکثریت پر مسلط کرنے کی سازش کی گئی جس کے بہت سے نقصانات ہوئے نظریہ پاکستان کے نام پر آج بھی ایسے تصورات کو مسلط کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جن کا پاکستان کی تحریک کے حقیقی مقاصد سے کوئی تعلق نہیں۔

نوجوان  نسل اس دن کو بڑے جوش و خروش کے ساتھ منا رہی ہے، لاہور کی سڑکوں پر لوگوں کے کپڑوں پر قومی جھنڈا لگا ہوا دیکھا جاسکتاہے، مگر کیا یہ کافی ہے؟ کیا اس دن کو منانے کا اصل مقصد یہی ملی نغمے گانہ، تقاریریں کرنا اور کپڑوں پر جھنڈا لگانا ہے؟

وہ قائدِاعظم ملّت کا پاسباں، مدبر، اصول پرست، صاحب بصیرت، اس نے جس پاکستان کا تصور پیش کیا تھا۔ وہ پاکستان کہاں ہے؟ قائد اعظم جس معاشرے کو تحمل برداشت، یگانگت والی سوسائٹی بنانا چاہتے تھے۔ وہ کہاں ہے؟

روزنامہ مشرق کے ایڈیٹر نے کہا ہے کہ آج کی نسل کو اسلام ، پاکستان اور اقابرین پاکستان کی تعلیمات سے متعارف اور ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ تنگ نظری ، شدت پسندی اور تعصب کے ناسور سے جان چھڑائی جا سکے ۔

پاکستان اس وقت بہت سے بنیادی مسائل کا شکار ہے، ملک بھر میں انتشار پروان چڑھ رہا ہے، نوجوان نسل  کو ملک دشمن عناصر اپنا شکار بنا رہے ہیں۔ نسل کشی کے نام پر آئے روز قتل ہورہے ہیں، وہ لوگ جو کبھی ایک قوم تھے مسلم قوم آج سندھی، پنجابی، پٹھان اور بلوچ بن کے رہ گئے ہیں۔

اقبال نے کہا تھا کہ ‘قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں۔۔۔۔ جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں۔’

اشرف سہیل کے مطابق پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں  سب سے بڑا چیلنج قانون کی بالادستی ، نظام عدل کا استحکام اور نظام تعلیم کا فرسودہ ہونا ہے ۔

دوسری جانب یومِ پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، حساس مقامات پر اضافی پولیس اور رینجرز تعینات کی گئی ہے۔ بڑے شہروں میں ٹریفک پلان تشکیل دیا گیا ہے۔

گھروں اور دفاتر میں سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں نے  قومی لباس زیب تن کیا ہوا ہے، جب کہ بازاروں اور سڑکوں پر ملی نغمے بجائے جارہے ہیں۔ مختلف مقامات پر آتش بازی کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔

اشرف سہیل نے کہا ہے کہ ملک میں قوم یکجہتی کو فروغ دینے کے لئے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ،سماجی انصاف ، تعلیمی نظام کی درستگی اور اسلام کے نام پر تعصب کی سوچ کے خاتمہ ضروری ہے ۔

یومِ پاکستان کے موقع پر وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے قوم کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ یومِ پاکستان ہم سب کے لیے تجدید عہد کادن ہے، ہم سب نے آج اس عزم کا اعادہ کرنا ہے کہ ہم وطن عزیز کوانصاف اور قانون کی بالادستی پر مبنی ایک عظیم فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کریں گے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ یومِ پاکستان ہمیں اُس ولولہ انگیز لمحے کی یاد دلاتا ہے جب 23 مارچ 1940 کو برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد ریاست کے قیام کا فیصلہ کیا۔

یہ دن ہمارے قومی شعور، اجتماعی خودی اور اس عزم کی علامت ہے جس نے ہمیں پاکستان جیسی عظیم نعمت عطا کی۔ آج  84 سال بعد بھی ہمیں نہ صرف ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہے بلکہ حال اور مستقبل کے لیے ایک واضح راستہ بھی متعین کرنا ہے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ 23 مارچ 1940 دراصل مفکر پاکستان علامہ اقبال کے خواب کا عملی جامہ پہنانے کی جانب سب سے اہم پیش رفت تھی۔

پاکستان کا آج اور کل ہمارےہاتھ میں ہیں، اس کی ترقی و خوشحالی میں ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، جیساکہ قائدِاعظم نے کہا تھا کہ ‘ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے۔۔۔۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے۔’

یومِ پاکستان ایک ایسا تاریخی دن ہے جو آزادی کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد قومی یکجہتی کو فروغ دینا اور نئی نسل کو قیامِ پاکستان کی تاریخ سے روشناس کرانا ہوتا ہے۔ ملک بھر میں یہ دن ملی جوش و خروش اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے، تاکہ قوم کو اس کے اصل مقاصد یاد دلائے جا سکیں۔

 

 

مادھو لعل

مادھو لعل

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس