پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی مسلسل تیسری حکومت ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ملک کے تیسرے بڑے صوبے میں پارٹی نے تین مختلف وزرائے اعلیٰ کے ساتھ حکومت کی ہے۔ 2013 میں پہلی مرتبہ پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آئی اور پرویز حٹک وزیراعلٰی بنے۔اس کے بعد 2018 میں محمود خان اور 2024 میں علی امین گنڈا پورنے وزیر اعلٰی کا عہدہ سنبھالا۔ ‘
پاکستان تحریک انصاف کی صوبے میں 12 سالہ حکومت کو ‘بیڈ گورننس اور بدانتظامی’ کے ساتھ ایسے مسائل بھی درپیش ہیں جو ملک کے دیگر حصوں میں پارٹی کی سیاسی مہم کو بریک لگا دیتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت جب ان شکایات کا ابلاغی محاذ پر جواب نہیں دیتی تو پارٹی ورکرز یہ کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی وہ پارٹی حکومت کو غیرمعمولی بتاتے ہیں تو کبھی اس کے کاموں کو موضوع بناتے ہیں۔ حتی الامکان یہ کوشش کی جاتی ہے کہ صوبائی حکومت کی کمزور سائیڈز کے بجائے نسبتا بہتر سائیڈ پر زیادہ بات ہو سکے۔
ایسی ہی ایک کاوش میں دعوی کیا گیا کہ ‘خیبرپختونخوا میں جِس طرح کام ہو رہے ہیں ایسے کام برصغیر کی تاریخ میں نہیں ہوئے۔ ابوذر فرقان نامی ہینڈل نے ‘چیلنج’ کیا کہ “خیبرپختون خوا میں کسی بھی مسئلہ پر علی امین کی ٹیم خاص طور پر فیصل امین کا رسپانس 1122 سے بھی زیادہ تیز ہوتا ہے۔ ہسپتالوں کا نظام چیک کر لیں، تعلیم کا نظام چیک کر لیں، پولیس کا نظام چیک کر لیں، پٹوار خانے کا نظام چیک کر لیں”۔
صاحب پوسٹ نے اپنے دعوے پر عمل کا لائیو ڈیمو دیکھنے کی دعوت دی تو خیبرپختونخوا کے بہت سے مکینوں نے خود کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ خود وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور کے حلقے کے ووٹر بھی شکایت کرتے دکھائی دیے۔
👀👀عمران خان کی رہائی کے طریقہ کار پر علی امین سے ہم سب کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن خیبرپختون خواہ میں جِس طرح کام ہو رہے ہیں ایسے کام برصغیر کی تاریخ میں نہیں ہوئے
میں آپ کو چیلنج کر کے کہتا ہوں پنجاب میں ن لیگ کے کونسلر کے اُمیدوار سے آپ رابطہ نہیں کر سکتے لیکن خیبرپختون خواہ… pic.twitter.com/zbrK7eFETg
— Abuzar Furqan (@AbuzarFurqan) January 14, 2025
اس ٹویٹ کے جواب میں خاصی تعداد میں لوگوں نے خود کو درپیش مسائل کا ذکر کیا۔
صارفین کا کہنا تھا کہ یہ صرف باتوں کی حد تک ہے اصل میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ ہمارے مسائل جوں کے توں پڑے ہیں اور کوئی سننے والا نہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ میرے گاؤں میں نہ لڑکوں کا سکول ہے اور نہ لڑکیوں کا۔ بجلی تک نہیں ہے اور سڑکوں کا حال تو بتانے لائق نہیں۔ انہوں نے ساتھ سڑکوں کی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔
غلام علی نامی ایک صارف نے لکھا کہ “میں اس دن مریض کے ساتھ شیرپاؤ ہسپتال گیا تھا (خیبر ٹیچنگ ہسپتال) ۔ رات کو درد سے نجات کے لیے دو گولیاں لینی پڑیں۔ اتنی پریشانی ہوئی کہ مریض رونے لگ گیا۔ صحت کے نظام کا بیڑا غرق جتنا اس حکومت نے کیا ہے آنے والے کئی برسوں میں اس کا مداوا نہیں ہوسکتا”۔
نور محمد نامی صارف نےمہمند روڈ کی تصویر اپلوڈ کی ، جس میں سڑک انتہائی بدحالی کا شکار تھی، اور لکھا کہ “یہ سات سال کے بعد مہمند روڈ کی صورتحال ہے جو صرف چودہ کلومیٹر ہے ۔ ہسپتال میں انجکشن تک نہیں ملتا اور تعلیم کا تو پوچھنا بھی نہیں۔ ہمارا ایم این اے ساجد اور ایم پی ایز اسرار اور محبوب شیر ہیں، آپ نے ٹوئٹر پر لوگوں کو باغات دکھا دیے ہیں۔”

حکومتی بیڈگورننس کا ذکر پارٹی یا ورکرز کے دعوؤں کے ردعمل تک ہی محدود نہیں، خیبرپختونخوا میں شعبہ تعلیم کی پریشان کن صورتحال مسلسل سوشل ٹائم لائنز پر نمایاں رہتی ہے۔ وزیراعلٰی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع یونیورسٹی ملازمین کو گزشتہ ماہ کی تنخواہ نہ ملنا اس سلسلے کی تازہ شکایت ہے۔
گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے ملازمین ماہ دسمبر کی تنخواہوں سے محروم
— Muhammad Faheem (@MeFaheem) January 15, 2025
تحریک انصاف دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے قوم کو شعور دیا ہے تاہم صوبے میں تعلیم خصوصاًاعلٰی تعلیم کی بگڑتی صورتحال اس دعویٰ کو سپورٹ نہیں کرتی اور روز بروز نئے مسائل سامنے آتے ہیں۔