اپریل 6, 2025 4:57 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیاں: یورپی ممالک کی فوری جنگ بندی کے لیے اپیل

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
اسرائیل کی غزہ میں فوجی کارروائیاں: یورپین ممالک کی فوری جنگ بندی کے لیے اپیل

اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ میں کشیدگی آئے روز بھڑھتی ہی چلی جاری رہی ہے جس سے غزہ میں ہر طرف تباہی پھیل چکی ہے جبکہ اسرائیل نے غزہ میں بربادی سے متاثرہ علاقے پر پھر سے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز غزہ کی پٹی میں ایک نئی حملے کی لہر شروع کی تھی جس سے جنوری 19 کے بعد کی خاموشی کا خاتمہ ہوگیا اور علاقے میں دھماکوں کی آوازیں پھر سے گونجنے لگیں۔

اس آپریشن نے فلسطینیوں کی زندگیوں میں مزید تباہی اور بے بسی کی لہر دوڑا دی جس کے نتیجے میں متعدد معصوم فلسطینی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی اس کارروائی کے دوران جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کی رات غزہ میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے اور کہا کہ اس کی فوری ضرورت ہے تاکہ غزہ کے عوام کو مزید اذیت سے بچایا جا سکے۔

ان وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ “ہم شہری ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “تمام فریقین کو مذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کی ضرورت ہے تاکہ جنگ بندی کا مکمل نفاذ ہو سکے اور یہ مستقل طور پر قائم رہ سکے۔”

یہ بھی پڑھیں: اٹلی کی وزارت تعلیم کا جینڈر نیوٹرل علامات پر پابندی کا فیصلہ

ان وزرائے خارجہ نے خاص طور پر حماس پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے تمام رہائشیوں کو رہا کرے اور غزہ میں اپنی حکومت کو مزید خطرہ بننے سے روکے۔ ساتھ ہی اسرائیل سے یہ بھی کہا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی مکمل تعمیل کرے اور امدادی سامان کی ترسیل کو ممکن بنائے۔

اس دوران اسرائیلی وزیر دفاع ‘اسرائیل کٹز’ نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے اسرائیلی قیدیوں کو رہا نہ کیا تو غزہ کے کچھ حصوں کو اسرائیل کے ساتھ ضم کر لیا جائے گا۔ یہ دھمکی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تعلقات کی مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔

دوسری جانب لبنان کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی فوج کی کارروائی نے مزید خونریزی کی شکل اختیار کرلی ہے۔ ہفتے کو اسرائیل نے لبنان کے جنوبی شہر تولین پر فضائی حملے کیے جس میں ایک بچی سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ حملہ لبنان کی سرحد سے اسرائیل کی طرف چھ راکٹ فائر ہونے کے بعد کیا گیا تھا جن میں سے تین راکٹ اسرائیلی فوج نے مار گرائے۔

لبنانی نیوز ایجنسی نے اس واقعے کی اطلاع دی اور کہا کہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے دو افراد میں ایک بچی بھی شامل تھی۔

اس حملے کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان سے چھ راکٹ فائر ہونے کا الزام حزب اللہ پر عائد کیا۔ تاہم، حزب اللہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ “ہم اس راکٹ حملے میں ملوث نہیں ہیں”۔

حزب اللہ نے اس حملے کو اسرائیل کی جانب سے لبنان پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ وہ لبنانی ریاست کے ساتھ مل کر اس صورتحال سے نمٹے گا۔

غزہ اور لبنان کی یہ کشیدہ صورتحال پوری دنیا کے لیے ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے اور عالمی رہنماؤں کو اس پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں مزید خون ریزی کو روکا جا سکے۔

مزید پڑھیں: یوکرین پر روسی ڈرون حملہ: شہر میں آگ بھڑک اٹھی، متعدد افراد ہلاک

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس