اپریل 6, 2025 5:04 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

پاکستان میں کاروں کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان، کتنی سستی ہوں گی؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

پاکستان اور آئی ایم ایف نے آئندہ پانچ سالوں کے دوران ملک کے بھاری بھرکم  ٹیرف کو کم کر کے 6 فیصد تک لانے پر اتفاق کیا ہے، جو اس وقت 10.6 فیصد ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی معیشت کو عالمی مسابقت کے لیے کھولنے، تجارتی ماحول کو بہتر بنانے اور درآمدی لاگت کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد، پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے کم ٹیرف رکھنے والا ملک بن جائے گا۔ اس پالیسی کے تحت مقامی اور درآمد شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے، کیونکہ آٹوموبائل سیکٹر پر لاگو درآمدی ڈیوٹیز اور دیگر متعلقہ اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

ٹیرف میں کمی کا عمل جولائی 2025 سے شروع ہوگا اور 2030 تک 6 فیصد کی سطح پر پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ عمل دو پالیسیوں کے تحت ہوگا۔ نیشنل ٹیرف پالیسی، جس کے تحت مجموعی اوسط ٹیرف 7.4 فیصد مقرر کیا جائے گا، جو پہلے سے طے شدہ 7.1 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔ آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی، جو آٹوموبائل سیکٹر میں ٹیرف میں مزید کمی لانے کے لیے کام کرے گی۔

ٹیرف میں متوقع تبدیلیوں کے مطابق اضافی کسٹم ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ ریگولیٹری ڈیوٹی میں 80 فیصد کمی کی جائے گی۔ کسٹم ایکٹ کے پانچویں شیڈول کے تحت دی گئی بعض مراعات کو واپس لے لیا جائے گا۔ مخصوص اشیا پر لاگو 7 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی اور صفر ٹیرف سلیب پر لاگو 2 فیصد ڈیوٹی بھی ختم کر دی جائے گی۔

آٹوموبائل سیکٹر میں 2030 تک تمام اضافی کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز ختم کر دی جائیں گی۔ درآمدی گاڑیوں پر زیادہ سے زیادہ ٹیرف 20 فیصد تک محدود کر دیا جائے گا۔ پہلے سال میں گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 55 سے 90 فیصد تک کم کی جائے گی، اور آنے والے برسوں میں اس میں مزید کمی ہوگی۔ ایک نیا 6 فیصد کسٹم ڈیوٹی سلیب متعارف کرایا جائے گا، جبکہ مختلف موجودہ سلیبس میں تدریجی کمی کی جائے گی۔

ابتدائی طور پر، آئی ایم ایف نے ٹیرف کو 5 فیصد تک لانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن پاکستان نے اسے 6 فیصد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ نئی ٹیرف پالیسی کو جون کے اختتام سے قبل وفاقی کابینہ سے منظور کروا لیا جائے اور اس کا مکمل نفاذ 2025-26 کے بجٹ میں کیا جائے گا۔

اس فیصلے کے متوقع نتائج میں درآمدی اشیا کی قیمتوں میں کمی، خاص طور پر گاڑیوں اور صنعتی خام مال کی قیمتوں میں کمی شامل ہے۔ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ درآمد شدہ اشیا کی لاگت کم ہونے سے پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔ صارفین کو سستی مصنوعات ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ حکومت کو محصولات میں ممکنہ کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جسے دیگر مالیاتی اقدامات کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ فیصلہ پاکستان کی معیشت کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ صنعتی ترقی کو فروغ دینے، کاروباری لاگت کو کم کرنے اور معیشت کو مزید آزاد بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس