وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور ان کے مشیر بیرسٹر سیف کے بیانات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ اور مشیروں کو صوبے اور عوام کے بجائے اڈیالہ جیل کے قیدی کی فکر زیادہ ہے، علی امین گنڈاپور ہدایات کے لیے اڈیالہ جیل کے دروازے پر بیٹھا رہے گا تو صوبہ کیسے چلے گا؟
نجی نشریاتی ادارے اے آر وائی نیوز کے مطابق امیر مقام نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور صوبے کو اللہ کے حوالے کر کے خود اسلام آباد میں آرام فرما رہے ہیں، وزیر اعلیٰ اور ان کے مشیروں کو بیانات، اعلانات اور تشہیر سے فرصت ہی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے پر مسلط حکمران جماعت میں انتشار ہے اسی لیے صوبے میں بھی انتشار ہے، وزیر اعلیٰ اور مشیروں کو صوبے اور عوام کے بجائے اڈیالہ جیل کے قیدی کی فکر زیادہ ہے، علی امین گنڈاپور ہدایات کے لیے اڈیالہ جیل کے دروازے پر بیٹھا رہے گا تو صوبہ کیسے چلے گا؟
امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مسلط حکومت سے نجات پہلی شرط ہے، کیونکہ دہشتگرد خود حکومت میں ہوں تو دہشتگردی کیسے ختم ہوگی؟
مزید پڑھیں: ففتھ جنریشن وارفیئر ایک چیلنج میں تبدیل ہو چکی ہے’ صدر پاکستان’
واضح رہے کہ بیرسٹر سیف نے طلال چوہدری اور عرفان صدیقی کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ وفاقی حکومت کے نمائندے دہشتگردی کی آگ پر تیل چھڑک رہے ہیں، نواز شریف کی کٹھ پتلیاں کے پی حکومت کو طعنے دے کر اپنے ماضی کو چھپا نہیں سکتیں۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ سنجیدگی کا علم یہ ہے کہ تنظیم سازی میں پکڑے جانے والے کو وزیر مملکت داخلہ بنا دیا، عرفان صدیقی موقع کی مناسبت سے لبرل بن گئے ہیں، نواز شریف کو نکلوایا پھر منتیں کر کے واپس لانے کا کارنامہ عرفان صدیقی کا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہدا کے خون کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلیے استعمال کرنا قابل مذمت اور شرمناک ہے۔