اپریل 4, 2025 11:38 شام

English / Urdu

Follw Us on:

سندھ میں وائس چانسلرز کی تقرری کا نیا طریقہ، ‘جامعات کی خودمختاری پر حملہ’ کیسے؟

دانیال صدیقی
دانیال صدیقی
فائل فوٹو / گوگل

سندھ حکومت جامعات ایکٹ میں ترمیم کر رہی ہے جس کے تحت اب کوئی بھی 20 یا 21 گریڈ کا آفیسر یونیورسٹی کا وائس چانسلر بن سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جامعات کی خودمختاری اور تعلیمی معیار پر ایک نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔

سندھ حکومت کا جامعات کے ایکٹ میں ترمیم پر  فیصلہ ایک بڑا تنازعہ بن چکا ہے، یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کے خلاف اساتذہ اور ماہرین تعلیم سراپا احتجاج ہیں۔

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی نے بھی اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے احتجاج کی حمایت کر دی ہے۔

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) نے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے جامعات کا وقار مجروح ہوگا اور تعلیمی معیار متاثر ہوگا۔

اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ وائس چانسلر کا انتخاب صرف ماہرین تعلیم میں سے ہی کیا جائے، اس کے لیے شفاف اور غیر جانبدار نظام بھی متعارف کروایا جائے۔

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) کے عہدیدران کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے یونیورسٹی ایکٹ میں ترامیم تعلیمی آزادی کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ بیوروکریٹس کے پاس تدریسی یا تحقیقی تجربہ نہیں ہوتا جو یونیورسٹی کی قیادت کے لیے لازمی ہے۔ اس ترمیم سے تعلیمی معیار اور تحقیقی سرگرمیاں متاثر ہوں گی کیونکہ تعلیمی ادارے بیوروکریسی کے زیرِ اثر آجائیں گے۔ دنیا کے بہترین تعلیمی ادارے خودمختاری کی بنیاد پر کامیاب ہیں، یہ اقدام اس اصول کی خلاف ورزی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر معروف بن رؤف نے اس ایکٹ میں ترمیم کو جامعات کی خود مختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بیوروکریٹ کی بطور وائس چانسلر تعیناتی کسی صورت قابل قبول نہیں، ہم اس ترمیم کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے، ہم سندھ کی جامعات میں کلاسز کا بائکاٹ کر رہے ہیں، پیر کے روز آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

سندھ کی 6 جامعات بشمول بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری، شیخ ایاز یونیورسٹی شکارپور، لاڑکانہ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنسز بھٹ شاہ، شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کراچی، سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں وائس چانسلر مقرر نہیں ہیں، ان میں سے بعض جامعہ میں وائس چانسلر کی مدت ملازمت ختم ہونے کے باوجود کوئی نیا وائس چانسلر تعینات نہیں کیا گیا، بعض میں تو عرصہ دراز سے وائس چانسلر کی نشست خالی ہونے کے باوجود ابھی تک تعیناتی نہیں ہوئی۔

سندھ حکومت کی جانب سے یونیورسٹی ایکٹ میں ترمیم کے فیصلے پر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم خان کا کہنا ہے کہ بیوروکریٹس کو وائس چانسلر مقرر کرنا جامعات کی خودمختاری پر حملہ ہے۔ یہ تعلیم دشمن فیصلہ ناقابل قبول ہے، اس ظالمانہ فیصلے کو فوری واپس لیا جانا چاہیے، وائس چانسلر کا عہدہ تعلیمی میدان کے ماہرین کے لیے مخصوص ہونا چاہیے۔

امیرجماعت اسلامی کراچی نے مزید کہا کہ وائس چانسلر کا انتخاب تعلیمی ماہرین میں سے ہونا چاہیے۔ جامعات کی خودمختاری اور تعلیمی معیار کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے شفاف نظام بھی واضع کیا جائے۔ یہ فیصلہ تعلیم دشمن اور ناقابل قبول ہے۔

 

دانیال صدیقی

دانیال صدیقی

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس