“آج 24 مارچ ہے، وہ دن جب عوامی شاعر، انقلابی سپاہی اور بغاوت کا استعارہ حبیب جالب پیدا ہوا۔ وہ شاعر جس نے نہ صرف الفاظ سے انقلاب برپا کیا, بلکہ ہر آمر کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوا۔ آج بھی جب کوئی ناانصافی کے خلاف بولتا ہے، تو جالب کی آواز خود بخود گونجنے لگتی ہے کہ ‘تم سے پہلے بھی جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا۔۔۔۔اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا!”۔
حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ جب پاکستان بنا، تو وہ بھی لاکھوں مہاجروں کے ساتھ لاہور پہنچے۔ ایک چھاپہ خانے میں کام شروع کیا، مگر دل ہمیشہ لفظوں کی بغاوت میں دھڑکتا رہا۔
یہاں سے ایک عوامی شاعر کی پیدائش ہوئی، وہ شاعر جس نے اقتدار کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا۔ ایوب خان کے مارشل لا کے دوران جب انہوں نے یہ نظم کہی، ‘ایسے دستور کو، صبح بے نور کو۔۔۔۔میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا۔’ تو ہر زبان پر یہی الفاظ تھے۔
حبیب جالب نے ہر آمر کے خلاف قلم اٹھایا۔ ایوب خان کے خلاف بولے، یحییٰ خان کو للکارا، بھٹو کے عدالتی قتل پر خاموش نہ رہے اور ضیاء الحق کے ظلم کو بے نقاب کرتے رہے، ظلمت کو ضیاء، صر صر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا۔’
ہر بار انہیں جیل میں ڈالا گیا، مگر ہر بار وہ پہلے سے زیادہ بلند آواز کے ساتھ نکلے۔ ان کے لیے شاعری صرف لفظوں کا کھیل نہ تھا، بلکہ یہ ایک تحریک تھی، ایک جنگ تھی، جو آج بھی جاری ہے۔
حبیب جالب نے عوام کے لیے سب کچھ دیا، مگر ان کے اپنے آخری دن بیماری اور غربت میں گزرے۔ 12 مارچ 1993 کو وہ دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر کیا وہ واقعی چلے گئے؟
جب بھی کوئی حکمران عوام کے حق پر ڈاکا ڈالتا ہے، جب بھی کوئی جابر قانون بنتا ہے، تو جالب کی نظمیں زندہ ہو جاتی ہیں۔ وہ شاعر جو مرنے کے بعد بھی حکمرانوں کے لیے ایک خوف کی علامت ہے۔’یہ جو دس کروڑ ہیں۔۔۔جہل کا نچوڑ ہیں۔’