(نیوز ڈیسک) بھارتی آرمی چیف کے بیان پر آئی ایس پی آر نے ردِعمل دیتے ہوئےکہا کہ بھارتی آرمی چیف کے بیانات سیاسی مقاصد کے تحت دیئے گئے ہیں، بھارتی آرمی چیف کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو حقیقت سے بالکل برعکس ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے بھارتی آرمی چیف کے پاکستان کے متعلق بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، بھارت کے بے بنیاد الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ پاکستان کو دہشتگردی کا مرکز قرار دینا بھارتی آرمی چیف کا بے بنیاد اور بھونڈا الزام ہے
آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو دبانے کی بھارتی کوششیں ناکام ہوں گی اور بھارت میں اقلیتوں پر ظلم اور نفرت انگیز بیانیے عالمی برادری سمیت سب پر عیاں ہیں ۔بھارت کا پراپیگنڈہ کشمیریوں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارتی فوج کے اقدامات انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں ۔بھارتی فوجی افسر پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار ہوئے اوربھارت میں مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کے منصوبے عالمی برادری کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے بھارتی وزیر دفاع اور آرمی چیف کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان 13 اور 14 جنوری کو بھارتی آرمی چیف اور وزیر دفاع کی جانب سے بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر ایک تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق ہونا ہے۔ اس تناظر میں بھارت کو قانونی اور اخلاقی طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں پر دعوے داری کا کوئی حق نہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارتی قیادت کے جانب سے اس طرح کے بیانات مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آمرانہ ہتھکنڈوں پر سے بین الاقوامی توجہ نہیں ہٹا سکتے۔ بھارت یہ غاصبانہ ہتھکنڈے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبانے کے لیے اختیار کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات علاقائی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ دوسرے ملکوں پر بے بنیاد الزامات لگانے کی بجائے بھارت کو دوسرے ملکوں میں ریاستی پشت پناہی کے تحت ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی کے لیے اپنا احتساب کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ بھارتی آرمی چیف اُوپندرا دیویدی نے پیر کے روز بھارتی دارالحکومت دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعوٰی کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 فیصد مبینہ عسکریت پسندوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ جبکہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آزاد کشمیر کے بھارت کا حصہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
دفتر خارجہ کی طرف سے بھارتی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے اس طرح کی بیان بازی پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے بھارت کو دیگر ممالک پر الزام تراشی کی بجائے اپنا احتساب کرنا چاہیے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر غور کرنا چاہیے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے بھارت اپنے غیر قانونی اقدامات سے عالمی برادری کی توجہ نہیں ہٹایا سکتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی جائز اور منصفانہ جدوجہد کو دبانے کے لئے اس طرح کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔