اپریل 5, 2025 12:38 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

سندھ میں گیس وتیل کی نئی دریافت، کب کیا ہوا؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
پی پی ایل نے سندھ کے لطیف بلاک میں تلاشی کنویں موہر-1 اور جوگن-1 سے ہائیڈرو کاربن دریافت کی تھی۔ (فوٹو: گوگل)

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے کہا ہے کہ کیرتھر جوائنٹ وینچر نے ضلع دادو، صوبہ سندھ میں واقع کنویں رفعت-1 سے ہائیڈروکاربن دریافت کی جو مختلف اقسام کے ایندھن کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔

کمپنی کے مطابق مشترکہ منصوبہ میں پی او جی سی (70% ورکنگ انٹرسٹ) اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (30% ورکنگ انٹرسٹ) شامل ہیں۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں پی پی ایل نے بتایا کہ تیل وگیس کی دریافت کی غرض سے کھودے گئے کنویں رفعت-1 پر تلاش کا کام 20 ستمبر 2024 کو شروع ہوا تھا۔ ابتدائی کام کا مقصد اس مقام پر ہائیڈروکاربن کی موجودگی کو پرکھنا تھا۔ 18 دسمبر 2024 تک کنویں کی گہرائی 2514 میٹر کر لی گئی تھی۔

پی پی ایل کے مطابق ابتدائی کاوشوں کے حوصلہ افزا نتائج کی بنیاد پر ڈرل اسٹیم ٹیسٹنگ (ڈی ٹی ایس) کی گئی۔ اس دوران کنویں کی سطح پر گیس کی مقدار معمولی رہی، چونکہ سطح زیادہ سخت تھی اس لیے رفعت-1 کنویں میں ہائیڈرولک آلات کی مدد سے مزید کھدائی کر کے ہائیڈروکاربن کی پیداوار بڑھائی گئی۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا اضافی چارجز واپس لینے کا فیصلہ، بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 30 پیسے کمی متوقع

اس مرحلہ پر کنویں پر مزید کام کر کے اسے کامیابی سے مکمل کیا گیا اور حتمی ٹیسٹ کیا گیا۔ تکنیکی طور پر ‘رگ لیس ٹیسٹنگ’ نامی عمل کے دوران رفعت-1 کنویں کو 1.10 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس کی شرح پر ٹیسٹ کیا گیا۔

پی پی ایل نے کہا کہ رفعت-1 کی یہ دریافت مشترکہ کاوش کے تحت قدرتی ایندھن کی مسلسل تلاش کے عزم کا اظہار ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال پی پی ایل نے سندھ کے لطیف بلاک میں کنویں موہر-1 اور جوگن-1 سے بھی ہائیڈرو کاربن دریافت کیا تھا۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس