اپریل 5, 2025 4:28 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

امریکا کے بعد جنوبی کوریا بھی آگ کی لپیٹ میں آگیا، 18 افراد ہلاک، 27,000 لوگ بے گھر ہوگئے

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
امریکا کے بعد جنوبی کوریا بھی آگ کی لپیٹ میں آگیا، 18 افراد ہلاک، 27,000 افراد بے گھر ہوگئے

جنوبی کوریا کے جنوب مشرقی علاقوں میں جنگلات کی تباہ کن آگ نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

آگ کی لپیٹ میں آئے ہوئے علاقے میں ہزاروں فائر فائٹرز اور فوجی اہلکار آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ ملک میں تاریخ کی بدترین آگ کو قابو میں لایا جا سکے۔

مقامی حکام کے مطابق آگ نے علاقے کے 27,000 سے زیادہ افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے جبکہ صورتحال ہر گزرتے لمحے کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

اس آگ کا سبب تیز ہوا کے جھونکے اور خشک موسمی حالات ہیں جنہوں نے آگ کو بڑھاوا دیا۔

جنوبی کوریا کے صدر ‘ہان ڈک سو’ نے اعلان کیا ہے کہ “ہم تمام دستیاب وسائل اور اہلکاروں کو اس آفت سے نمٹنے کے لیے متحرک کر چکے ہیں لیکن یہ صورتحال بہت مشکل ہے۔”

حکومتی ترجمان نے مزید کہا کہ اس میں امریکی فوجی بھی مدد فراہم کر رہے ہیں تاکہ آگ پر قابو پایا جا سکے۔

آگ کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 14 ہلاکتیں یوئی سونگ کاؤنٹی میں رپورٹ ہو چکی ہیں جبکہ 4 افراد سانچیون کاؤنٹی میں جاں بحق ہوگئے اور مرنے والوں کی اکثریت 60 سے 70 سال کی عمر کے افراد ہیں۔

جنوبی کوریا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فارسٹ سائنس کے ماہر ‘لی باینگ ڈو’ نے کہا کہ یوئی سونگ کی آگ نے ‘ناقابل تصور’ سرعت سے پھیلتے ہوئے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جسے روکنے میں کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کے روس اور یوکرین کے ساتھ ‘الگ الگ’ معاہدے: کب اور کیسے نافذ ہوں گے؟

مقامی حکام کے مطابق خشک موسم بدستور جاری رہنے کی توقع ہے اور اس صورتحال نے جنگلات کی آگ کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسی آگ کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے جیسا کہ اس سے پہلے امریکا کے لاس اینجلس اور جاپان کے شمال مشرق میں بھی ایسی آفات دیکھی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ جنوبی کوریا کی حکومت اپنے پہاڑی علاقوں میں آگ بجھانے کے لیے ہیلی کاپٹروں پر انحصار کر رہی ہے لیکن گزشتہ سال روسی ہیلی کاپٹروں کی مرمت نہ ہونے کے باعث ان کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

حکومت نے اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مزید ہیلی کاپٹر اور جدید ٹیکنالوجی جیسے ڈرونز کے استعمال کا منصوبہ بنایا ہے۔

یوئی سونگ کی آگ نے ایک قدیم مندر “گائون” کو بھی مکمل طور پر جلا دیا جب کہ اس کی لپیٹ میں آنے والی دیگر تاریخی ورثوں میں یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل “ہاہوے گاؤں” اور “بیونگ سان کنفیوشن اکیڈمی” بھی شامل ہیں۔

حکام ان علاقوں کی حفاظت کے لیے آگ کو روکنے کے لیے ایروسلز اور کیمیکل مواد کا استعمال کر رہے ہیں۔

حکومت نے متاثرہ علاقوں کو ‘خصوصی قدرتی آفات کے علاقے’ کے طور پر اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ جنگلات کی آگ نے 15,000 ہیکٹر سے زائد زمین کو تباہ کر دیا ہے۔

جنوبی کوریا کی حکومت نے ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لانے کا عہد کیا ہے تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

مزید پڑھیں: ویسے تو ٹرمپ کو عدالت کا حکم ماننا چاہیے مگر ‘امیگریشن پالیسی’ میں استثنا، امریکی عوام

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس