اپریل 5, 2025 1:18 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

چین میں ماحولیاتی تبدیلی کے شدید اثرات: 26 فیصد گلیشیئرز کم ہوگئے

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

چین میں گلیشیئرز کے سکڑنے کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار نے ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کو اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 1960 کے بعد سے چین کے گلیشیئر کا رقبہ 26 فیصد کم ہو چکا ہے، جبکہ 7,000 چھوٹے گلیشیئر مکمل طور پر غائب ہو گئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں گلیشیئر کی پسپائی کی رفتار مزید تیز ہو گئی ہے، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہے۔

یونیسکو کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کے گلیشیئرز پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں، اور گزشتہ تین سالوں میں ریکارڈ پر سب سے زیادہ برفانی نقصان درج کیا گیا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جیسے جیسے یہ قدرتی پانی کے ذخائر سکڑیں گے، میٹھے پانی کی دستیابی مزید کم ہو جائے گی، جس سے آبی وسائل پر دباؤ بڑھے گا اور پانی کے حصول کے لیے مقابلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، گلیشیئرز کا پگھلاؤ ماحولیاتی تباہی کے خطرات میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔

چین میں گلیشیئرز بنیادی طور پر تبت، سنکیانگ، سیچوان، یونان، گانسو اور چنگھائی کے علاقوں میں واقع ہیں۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے نارتھ ویسٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایکو انوائرمنٹ اینڈ ریسورسز کی تحقیق کے مطابق، 2020 میں چین کے گلیشیئرز کا کل رقبہ 46,000 مربع کلومیٹر تھا، جبکہ 1960 سے 1980 کے درمیان یہ رقبہ تقریباً 59,000 مربع کلومیٹر تھا۔ اس عرصے کے دوران گلیشیئرز کی تعداد 46,000 سے بڑھ کر 69,000 تک پہنچ گئی، جو اس وسیع علاقے میں برف کے مسلسل تغیر کو ظاہر کرتا ہے۔

اپنے گلیشیئرز کو پگھلنے سے بچانے کے لیے، چین نے مختلف ٹیکنالوجیز کو آزمایا ہے، جن میں برف کے کمبل اور مصنوعی برف کے نظام شامل ہیں، تاکہ برف کے پگھلنے کی رفتار کو سست کیا جا سکے۔ تبت کے سطح مرتفع کو دنیا کا “تیسرا قطب” بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ بلند و بالا خطہ برف کے وسیع ذخائر کا حامل ہے۔

ماہرین کے مطابق، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا سلسلہ نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا پر اثر ڈال رہا ہے۔ آرکٹک سے لے کر الپس اور جنوبی امریکہ سے لے کر تبت کے پہاڑی سلسلوں تک، ہر جگہ برفانی ذخائر تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ جیواشم ایندھن کے جلنے کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، جس کے نتیجے میں برف کے بڑے پیمانے پر نقصان میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔

یونیسکو کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ گلیشیئرز کے پگھلنے سے عالمی سطح پر اقتصادی، ماحولیاتی اور سماجی مسائل میں اضافہ ہوگا۔ سمندروں کی سطح میں اضافہ اور پانی کے قدرتی ذرائع کے سکڑنے سے نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدید ہوں گے بلکہ مستقبل میں انسانی زندگی اور معیشت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس