اپریل 4, 2025 4:13 شام

English / Urdu

Follw Us on:

ریکوڈک میں کتنا سونا اور تانبا ہے، مالیت کیا ہے؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

بلوچستان میں ریکوڈک پراجیکٹ کے حوالے سے کی گئی تازہ ترین فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق یہاں موجود سونے اور تانبے کے ذخائر کی مالیت 60 بلین ڈالر سے زائد ہے۔ اس منصوبے میں تین سرکاری توانائی کمپنیوں نے اپنی فنڈنگ کو بڑھا کر تقریباً 1.9 بلین ڈالر کر دیا ہے۔

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ نے پہلے اس منصوبے میں 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا، جسے اب بڑھا کر 627 ملین ڈالر کر دیا گیا ہے۔ اس طرح تینوں کمپنیوں کی مجموعی فنڈنگ 900 ملین ڈالر سے بڑھ کر 1.88 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق ریکوڈک پروجیکٹ سے 13.1 ملین ٹن تانبا اور 17.9 ملین اونس سونا نکالنے کی توقع ہے۔ عالمی منڈی میں موجودہ قیمتوں کے حساب سے ان ذخائر کی مالیت میں 54 بلین ڈالر سونے اور 6 بلین ڈالر تانبے پر مشتمل ہے۔

اس منصوبے کے لیے سرمایہ کاری پر منافع کی شرح 25 فیصد بتائی گئی ہے۔ منصوبے کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس کی تمام تر توانائی سولر پاور پر مبنی ہوگی، جو اسے دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا گرین پروجیکٹ بناتی ہے۔

فی اونس سونے کی قیمت 3016 ڈالر اور تانبے کی قیمت 9815 ڈالر فی ٹن کے حساب سے اس منصوبے کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 60 بلین ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔

تازہ ترین فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق پہلے مرحلے میں 2028 تک سالانہ 45 ملین ٹن مل فیڈ پر کارروائی کا منصوبہ ہے جبکہ 2034 تک دوسرے مرحلے میں اس صلاحیت کو بڑھا کر 90 ملین ٹن سالانہ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

منصوبے کی مجموعی مدت 37 سال بتائی گئی ہے جو دو مراحل پر مشتمل ہوگی۔ پہلے مرحلے میں 5.6 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور یہ 2028 میں کام شروع کرے گا۔

اس منصوبے کے لیے 3 بلین ڈالر تک کی ایک محدود مالی سہولت پر بھی غور کیا جا رہا ہے جبکہ بقیہ رقم شیئر ہولڈرز کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔

ریکوڈک پروجیکٹ موجودہ مائننگ لیز کے تحت پانچ بڑے ذخائر سے استفادہ کرے گا جبکہ مستقبل میں مزید ترقی کی بھی گنجائش موجود ہے۔

منصوبے کے دوسرے مرحلے کی سرمایہ کاری پراجیکٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی اور شیئر ہولڈرز کی شراکت سے کی جائے گی۔

او جی ڈی سی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس منصوبے کے لیے کمپنی کی فنڈنگ 627 ملین ڈالر تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے جو پراجیکٹ فنانسنگ کے اخراجات بھی پورے کرے گی۔ کمپنی کے مطابق اس کی کل سرمایہ کاری اس کے متناسب شیئر کے مطابق ہوگی۔

اسی طرح پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ نے بھی اس منصوبے کے لیے اپنے فنڈز میں اضافہ کیا ہے اور اس کی کل سرمایہ کاری 627 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پراجیکٹ فنانسنگ کے حصول کے لیے بھی منظوری دی ہے جبکہ اس کا متوقع شیئر ہولڈر ایکویٹی تعاون 349 ملین ڈالر ہوگا۔

اسی طرح کا فیصلہ گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ نے بھی کیا ہے اور تینوں کمپنیوں کے اجتماعی شیئرز 25 فیصد ہوں گے۔

ریکوڈک پروجیکٹ پاکستان کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کے وسائل کو بروئے کار لانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ پاکستان منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے ان کمپنیوں کے شیئرز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے بقیہ 25 فیصد شیئرز حکومت بلوچستان کے پاس ہیں، جن میں سے 15 فیصد بلوچستان منرل ریسورسز لمیٹڈ کے ذریعے مکمل فنڈڈ بنیاد پر اور 10 فیصد فری کیری کی بنیاد پر رکھے گئے ہیں۔ 50 فیصد شیئرز بیرک گولڈ کارپوریشن کے پاس ہیں جو اس منصوبے کو چلا رہی ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس