انڈیا کی فوج نے ایک حاضر سروس کرنل اور ان کے بیٹے کی مبینہ طور پر پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے ذریعے پٹائی کے واقعے کی غیر جانبدار اور منصفانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔
ابتدائی طور پر مقامی پولیس نے کرنل کی ایف آئی آر درج نہیں کی، جس کے بعد یہ معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچ گیا۔ اس واقعے نے فوج اور پولیس کے درمیان کشیدگی کو جنم دیا۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ویسٹرن کمانڈ ہیڈ کوارٹرز کے اعلیٰ افسر لیفٹیننٹ جنرل موہت وادھوا اور پنجاب پولیس کے سربراہ گورو یادو نے چنڈی گڑھ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
لیفٹیننٹ جنرل موہت وادھوا نے اس واقعے کو افسوسناک اور غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قصورواروں کے خلاف غیر جانبدار اور شفاف تفتیش کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج 15 مارچ کو اس واقعے سے آگاہ ہوئی اور اس کے بعد اعلیٰ حکام سے کارروائی کی درخواست کی گئی۔
پنجاب پولیس کے سربراہ گورو یادو نے کہا کہ اسے فوج اور پولیس کے درمیان تصادم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پولیس فوج کے وقار اور مرتبے کا احترام کرتی ہے۔ ان کے مطابق، واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
کرنل پشپیندر سنگھ نے پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں الزام لگایا کہ 13 مارچ کی رات پٹیالہ کے ایک ڈھابے میں پارکنگ کے معمولی تنازعے کے بعد پنجاب پولیس کے چار انسپکٹر سمیت 12 اہلکاروں نے ان پر حملہ کیا۔ اس حملے میں ان کے کندھے پر چوٹ آئی جبکہ ان کے بیٹے کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی۔
ڈھابے کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمروں میں واقعے کی ویڈیوز موجود ہیں۔ کرنل نے مزید الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کا موبائل فون بھی چھین لیا اور ان کی شناخت جاننے کے باوجود واپس نہیں کیا۔
کرنل پشپیندر سنگھ اس وقت چنڈی مندر کے کمانڈ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے 22 مارچ کو 12 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ بعد ازاں، انہوں نے پنجاب ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی، جس میں مطالبہ کیا کہ ان کی ایف آئی آر کو سی بی آئی یا کسی دوسرے غیر جانبدار تفتیشی ادارے کو منتقل کیا جائے تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔