27 مارچ 2022 کو اس وقت کے وزیرِاعظم عمران خان نے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کے دوران ایک خط لہرا کر یہ دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت کے خلاف ایک غیر ملکی سازش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول یہ دستاویز اس بات کا ثبوت تھی کہ بیرونی طاقتیں پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں۔
ماہر امور سیاسیات پروفیسر رعیت علی نے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “یہ بیانیہ ایک سیاسی حکمت عملی زیادہ محسوس ہوتا ہے کیونکہ کسی عدالتی یا بین الاقوامی تحقیقات میں سازش کے ثبوت نہیں ملے۔ تاہم عمران خان کے حامیوں میں اس بیانیے کی مقبولیت نے ان کے ووٹ بینک کو کافی مضبوط کیا۔”
سابق وزیراعظم عمران کا دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن جماعتیں عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لا چکی تھیں اور سیاسی منظرنامہ شدید کشیدگی کا شکار تھا۔ اس دعوے کے بعد ملک میں سیاسی ہلچل مزید بڑھ گئی اور بحث چھڑ گئی کہ آیا واقعی بیرونی طاقتیں حکومت گرانے میں ملوث تھیں یا نہیں۔
ماہر امور سیاسیات پروفیسر محمد بلال نے ‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “پاکستان جیسے ممالک میں بیرونی قوتوں کا اثر و رسوخ تاریخی طور پر موجود رہا ہے۔ مگر حکومتوں کی تبدیلی میں براہ راست سازش کے ثبوت شاذ و نادر ہی سامنے آئے ہیں۔”
عمران خان نے جلسے میں اس خط کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی حکومت کو ہٹانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ بعد ازاں، حکومت نے دعویٰ کیا کہ یہ “سائفر” ایک سفارتی مراسلہ تھا جو پاکستان میں تعینات امریکی سفیر نے بھیجا تھا اور جس میں امریکی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر عمران خان کی حکومت کے خاتمے کی بات کی گئی تھی۔
سائفر اور بیرونی سازش کا معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوا جب نیشنل سکیورٹی کمیٹی (NSC) نے اس سائفر کا جائزہ لیا اور تسلیم کیا کہ غیر سفارتی زبان استعمال کی گئی تھی، تاہم کسی باقاعدہ سازش کے شواہد نہیں ملے۔ اس اجلاس کے بعد پاکستان نے امریکہ کو باضابطہ طور پر ڈیمارچ یعنی سفارتی احتجاج بھی ریکارڈ کرایا، مگر امریکی حکام نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔
اس حوالے سے پروفیسر رعیت علی کا کہنا ہے کہ “ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا،سابق وزیراعظم پاکستان محمد علی بوگرا اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومتوں کا خاتمہ ایسے واقعات ہیں جن پر بیرونی اثرات کے الزامات لگے مگر تاریخی شواہد ابہام کا شکار ہیں۔”
چند روز بعد اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی اور وہ وزارتِ عظمیٰ سے برطرف ہو گئے۔ عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) نے الزام لگایا کہ ان کی حکومت کو بیرونی طاقتوں کے اشارے پر گرایا گیا۔ جبکہ حزبِ اختلاف اور فوجی قیادت نے اس بیانیے کی سختی سے تردید کی۔
پروفیسر محمد بلال کے مطابق “سازش کے شواہد کمزور تھے مگر سفارتی دباؤ ہمیشہ رہتا ہے۔ عمران خان کے بیانیے نے عوام میں پذیرائی حاصل کی لیکن عالمی سطح پر اسے قبولیت نہ ملی۔”
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی متحدہ کوششوں، ان کے بعض پالیسی فیصلوں اور فوج سے کشیدہ تعلقات نے بھی ان کے اقتدار کے خاتمے میں کردار ادا کیا۔
عمران خان کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد، ان کے خلاف مختلف نوعیت کے درجنوں مقدمات درج کیے گئے۔ ان میں بدعنوانی، توشہ خانہ کیس، سائفر کیس اور احتجاج میں تشدد بھڑکانے جیسے الزامات شامل ہیں۔
پروفیسر رعیت علی کے نزدیک ” سیاسی بنیادوں پر مقدمات جمہوریت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ پاکستان میں ہر حکومت اپنے مخالفین کے خلاف ایسے ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی ہے جس سے سیاسی نظام کمزور ہوا ہے۔”
مئی 2023 میں عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کیا گیا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں شدید احتجاج اور مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ اس دوران کئی مقامات پر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جسے ریاست نے بغاوت کے مترادف قرار دیا۔
اس کے بعد 5 اگست کو عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں زمان پارک لاہور ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا اور انہیں اٹک جیل منتقل کیا اس کے اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا تھا اور تاحال وہ اڈیالہ جیل میں ہی ہیں۔
پروفیسر محمد بلال کا کہنا ہے کہ ” ایسی صورتحال پاکستان میں سیاسی پولرائزیشن کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اگر تحریک انصاف کو مزید دبایا گیا تو اس کے ردعمل میں عوامی احتجاج شدید ہو سکتا ہے۔”
اب تک سامنے آنے والی تحقیقات میں یہ تو واضح ہوا کہ سفارتی سائفر میں سخت زبان استعمال کی گئی تھی، مگر کسی منظم غیر ملکی سازش کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ امریکہ نے بھی کئی بار ایسے الزامات کو مسترد کر دیا، جب کہ پاکستان کے ریاستی ادارے بھی باضابطہ طور پر کسی “سازش” کے تاثر کو رد کر چکے ہیں۔
پروفیسر رعیت علی کا کہنا ہے کہ ” سائفر جیسے معاملات عالمی سفارت کاری میں پاکستان کی ساکھ پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سفارتی خط و کتابت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔”
عمران خان کے حامی اب بھی یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ انہیں ایک باقاعدہ سازش کے تحت اقتدار سے ہٹایا گیا جب کہ ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ سب ایک سیاسی بیانیہ ہے جسے اقتدار میں واپسی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پروفیسر محمد بلال کا کہنا ہے کہ “عمران خان کے بیانیے نے نوجوان ووٹرز کو متحرک کیا ہے جو انہیں انتخابات میں فائدہ دے سکتا ہے۔ تاہم قانونی پیچیدگیاں ان کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔”
عمران خان اس وقت جیل میں ہیں اور ان کی پارٹی PTI کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ مگر اس کے باوجود حالیہ انتخابات میں ان کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد میں کامیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ اب بھی ایک مقبول رہنما ہیں۔
پروفیسر رعیت علی کے نزدیک ” تحریک انصاف کی موجودہ مقبولیت عمران خان کی شخصیت کے گرد گھومتی ہے۔ اگر وہ سیاست سے باہر ہوتے ہیں تو پارٹی کو قیادت کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔”
یہ دیکھنا باقی ہے کہ آنے والے دنوں میں عدالتی فیصلے، فوجی قیادت کا رویہ، اور سیاسی مذاکرات پاکستان کی سیاست کو کس سمت میں لے جاتے ہیں۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ 27 مارچ 2022 کو جلسے میں لہرایا گیا خط پاکستانی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔