گرین لینڈ، جو کہ ڈنمارک کا خود مختار حصہ ہے اس نے ایک ایسی حکومت کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جو اپنے اندر چار سیاسی جماعتوں کا اتحاد لیے ہوئے ہے۔
یہ اعلان آج کے روز متوقع ہے اور یہ تاریخی فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ کو خریدنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا تھا۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ چار جماعتوں پر مشتمل حکومت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی گرین لینڈ آمد سے صرف ایک دن قبل متعارف کرائی جائیں گی۔
جے ڈی وینس نے گرین لینڈ کے شمالی علاقے میں واقع امریکی فوجی اڈے دورہ کرنا ہے۔
یہ دورہ پہلے گرین لینڈ اور ڈنمارک کی حکومتوں کے لیے متنازعہ تھا لیکن اب مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔ ابتدائی طور پر وینس کے ساتھ ان کی اہلیہ اوشا اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹس کا بھی گرین لینڈ کے مشہور ‘ڈوگ ریس’ میں شرکت کا منصوبہ تھا لیکن اس میں گرین لینڈ کی مقامی حکومت کی طرف سے کوئی دعوت نہیں دی گئی تھی۔
اسی دوران مقامی خبر رساں ادارے KNR نے مطابق گرین لینڈ کی سیاست میں ایک نیا اتحاد تشکیل پانے جا رہا ہے۔
لازمی پڑھیں: بحیرہ احمر میں آبدوز حادثہ: چھ روسی ہلاک، درجنوں سیاح محفوظ
یہ اتحاد پرو بزنس جماعت “ڈیموکریٹس” کی قیادت میں ہوگا جس کے سربراہ ‘جینس-فریڈریک نیلسن’ مارچ 11 کو ہونے والے انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئے ہیں۔
نیلسن کی جماعت نے اپنی سیٹوں کی تعداد تین گنا بڑھا کر 10 تک پہنچا دی تھی اور انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کو اختلافات بھلا کر ایک متحد حکومت بنانے کی اپیل کی تھی تاکہ امریکی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔
یہ اتحاد گرین لینڈ کے پارلیمنٹ کی 31 سیٹوں میں سے 23 سیٹوں پر مشتمل ہوگا۔ تاہم، اس میں سب سے بڑی حامی جماعت “نالیرق” شامل نہیں ہوگی جو مکمل طور پر خودمختاری کے حق میں ہے۔ نالیرق نے اپنی سیٹوں کی تعداد دوگنا کر 8 کر لی تھی لیکن وہ اس اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا۔
اس وقت گرین لینڈ میں ایک سیاسی جنگ چھڑی ہوئی ہے، جہاں ایک طرف ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ گرین لینڈ کو امریکا کے تحت کر لیا جائے اور دوسری طرف گرین لینڈ کے مقامی حکام نے بار بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ جزیرہ ان کے لئے اہم ہے اور وہ اپنی تقدیر خود طے کریں گے۔
گرین لینڈ میں موجودہ عبوری وزیراعظم ‘میوٹ ایگڈے’ نے واضح طور پر کہا ہے کہ گرین لینڈ کسی کے لیے فروخت نہیں ہوگا اور اس کے لوگ ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
نیلسن کی قیادت میں بننے والی یہ حکومت، جو مختلف سیاسی نظریات کی حامل جماعتوں کا ایک غیر متوقع اتحاد ہے اور گرین لینڈ کے مستقبل کے حوالے سے عالمی برادری کو ایک پیغام دے رہی ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرنے کے لئے تیار ہیں۔