اپریل 5, 2025 1:18 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

‘یوکرین میں عبوری حکومت، نئے انتخابات اور جنگ بندی کے معاہدوں کی ضرورت ہے’ ولادیمیر پوتن

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

روسی میڈیا کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کو ایک عارضی عالمی انتظامیہ کے تحت رکھنے کی تجویز دی ہے، تاکہ نئے انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے اور جنگ کے خاتمے کے لیے اہم معاہدوں پر دستخط کیے جا سکیں۔ پوتن کے یہ بیانات شمالی بندرگاہ مرمانسک کے دورے کے دوران سامنے آئے، ایسے وقت میں جب امریکا روس کے ساتھ دوبارہ روابط قائم کرنے اور کیف و ماسکو کے درمیان علیحدہ علیحدہ مذاکرات کے ذریعے تنازعہ ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

کریملن کے رہنما نے عندیہ دیا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حقیقی طور پر یوکرین میں امن چاہتے ہیں، جو ان کے پیشرو جو بائیڈن سے مختلف حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔ بائیڈن نے روس کے ساتھ براہ راست بات چیت سے گریز کیا تھا، جبکہ ٹرمپ کھلے عام مذاکرات کی حمایت کر رہے ہیں۔ پوتن نے کہا، “میری رائے میں، امریکا کے نو منتخب صدر مخلصانہ طور پر کئی وجوہات کی بنا پر تنازعات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔”

فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے جاری جنگ نے لاکھوں افراد کو ہلاک و زخمی کیا، لاکھوں شہری بے گھر ہوئے، اور کئی قصبے کھنڈر بن چکے ہیں۔ اس جنگ نے ماسکو اور مغربی دنیا کے درمیان ایک نئی سرد جنگ کی سی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

پوتن کی تجویز یوکرین کے سیاسی استحکام پر ان کی دیرینہ تنقید کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی ایک جائز مذاکراتی فریق نہیں ہیں کیونکہ ان کی صدارت مئی 2024 میں ختم ہو چکی ہے، لیکن وہ اب بھی اقتدار میں ہیں۔ پوتن نے تجویز دی کہ ایک عبوری عالمی انتظامیہ، جسے اقوام متحدہ، امریکا، یورپی ممالک اور دیگر فریقین کی حمایت حاصل ہو، یوکرین میں عارضی طور پر اقتدار سنبھالے۔

انہوں نے کہا، “اصولی طور پر، یوکرین میں ایک عارضی انتظامیہ متعارف کرائی جا سکتی ہے جو اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی ممالک اور ہمارے شراکت داروں کی سرپرستی میں کام کرے۔” پوتن کے مطابق، اس انتظامیہ کا مقصد جمہوری انتخابات کا انعقاد اور ایک ایسی حکومت قائم کرنا ہوگا جو عوام کے اعتماد پر پورا اترے اور جس کے ساتھ امن معاہدے پر بات چیت کی جا سکے۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے پوتن کی اس تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں حکمرانی کا تعین اس کے آئین اور عوام کے ذریعے ہوتا ہے، کسی بیرونی قوت کے ذریعے نہیں۔ یوکرین کی جانب سے فوری طور پر اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یورپی رہنماؤں نے پیرس میں ہونے والی ایک ملاقات کے بعد کیف کی فوج کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ مستقبل میں یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ فرانس اور برطانیہ نے روس کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کی صورت میں ایک بین الاقوامی “یقین دہانی فورس” کی تشکیل پر غور کیا ہے، تاہم ماسکو یوکرین میں کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کو سختی سے مسترد کر چکا ہے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس