جنوبی کوریا میں لگی آگ نے تاریخ کی سب سے بدترین اور جنگلات کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی آگ کا ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔
گزشتہ اتوار کو شروع ہونے والی جنگلاتی آتشزدگی نے جنوب مشرقی علاقے کو بھسم کر دیا ہے جس سے ہزاروں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔
مقامی میڈیا کہ مطابق اب تک 27 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی بڑھنے کی توقع ہے۔
جنوبی کوریا کی وزارت داخلہ و سلامتی کے مطابق 37,000 سے زائد افراد کو ان آتشزدگی سے متاثر علاقوں سے نکال لیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ سڑکوں کی بندش اور مواصلاتی لائنوں کے منقطع ہونے کے سبب لوگ پریشانی کے عالم میں اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں صورت حال بے حد سنگین ہے اور آگ کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اس آتشزدگی نے 35,000 ہیکٹر (86,500 ایکڑ) سے زیادہ جنگل کو جلا ڈالا ہے جو جنوبی کوریا میں اب تک کی سب سے بڑی جنگلاتی آگ ہے۔
1987 سے جنگلاتی آگ کے ریکارڈ رکھنے والے کوریا فاریسٹ سروس کے مطابق یہ اب تک کی سب سے زیادہ جان لیوا آگ ہے۔
وزارت داخلہ ‘لی ہان کیونگ’ کے ڈیزاسٹر اینڈ سیفٹی ڈویژن کے سربراہ نے کہا کہ آگ کی شدت میں اضافہ اور تیز ہوائیں اسے قابو میں رکھنے کے امکانات کو کم کر رہی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل7 جنوری کو امریکی ریاست لاس اینجلس میں جنگلاتی آگ نے علاقے میں دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 29 افراد ہلاک ہوئے، جن میں کچھ وہ افراد بھی شامل ہیں جو اپنے گھروں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے تھے اور ہزاروں عمارتیں تباہ برباد ہوگئیں تھی۔
یہ تباہی ان قدرتی آفات میں سے ایک ہے جس نے نہ صرف جانوں کا ضیاع کیا بلکہ لاکھوں کی املاک کو بھی بھسم کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: لبنان میں 6 معصوم افراد شہید، اسرائیل کا شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا دعویٰ