📢 تازہ ترین اپ ڈیٹس
دوسری جانب میانمار کے آرمی چیف کا کہنا ہے کہ زلزلے سے اموات کی تعداد 3 ہزار سے زائد ہونےکا خدشہ ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق میانمار (برما) میں آنے والے زلزلے سے ہونے والی اموات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد اب 2 ہزار 700 سے تجاوز کر گئی ہے۔
میانمار کے میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اب تک ہلاکتوں کی تعداد 16 سو سے تجاوز کرچکی ہے ،ملبے سے لاشوں اور لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
میانمار میں سنہ 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے فوجی حکومت قائم ہے جس کی وجہ سے معلومات تک رسائی میں مُشکلات کا سامنا ہے۔ ریاست یعنی فوجی حکومت تقریباً تمام مقامی ریڈیو، ٹیلی ویژن، پرنٹ اور آن لائن میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے اور میانمار میں انٹرنیٹ کا استعمال بھی محدود ہے۔ زلزلے کے بعد سے متاثرہ علاقوں میں موبائل نیٹ ورک خراب ہیں اور ہزاروں متاثرین بجلی کی بندش کی وجہ سے مُشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال میں بی بی سی کو بھی زمینی حقائق معلوم کرنے میں مُشکلات کا سامنا ہے۔
میانمار میں مرنے والوں کی تعداد 144 ہوگئی ، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
میانمار میں مرنے والوں کی تعداد 100 سے زائد ہوگئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں جن کے عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے بینکاک میں کثیر منزلہ عمارت کے اُپر بنے سوئمنگ پول سے پانی کے گرنے کے مناظر
زلزلے کیوں آتے ہیں؟ زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔ زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔ کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔ پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ 43 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ بانگ سو ضلع کے ڈپٹی پولیس چیف ورپت سختائی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جب میں جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کے لیے پہنچا تو میں نے لوگوں کو مدد کے لیے پکارتے ہوئے سنا۔‘
عالمی امدادی تنظم ریڈ کراس کی جانب سے میانمار میں آنے والے زلزلے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ادارے سے منسلک امدادی کارکُنان زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ امدادی ٹیم کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بندش اور انٹرنیٹ کے معطل ہونے کی وجہ سے شدید مُشکلات کا سامنا ہے۔منڈلے اور ساگانگ کے علاقوں میں ٹیلی فون نیٹ ورک بھی بند ہے۔
مکمل تفصیلات:
جمعہ کو وسطی میانمار میں شدید زلزلہ آیا اور ینگون اور پڑوسی ملک تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں بھی لوگ خوف و ہراس کے عالم میں عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
ہفتے کے روز میانمار میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بین الاقوامی امداد پہنچنا شروع ہو گئی۔ امدادی کارکن زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کر رہے ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
میانمار میں زلزلے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 1000 سے بڑھ گئی ہے، جبکہ 1,670 افراد زخمی ہیں۔ یہ تعداد پہلے رپورٹ کی گئی 144 ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ میانمار کی فوجی حکومت نے کہا ہے کہ زلزلے کی وجہ سے سڑکیں، پل اور عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
Many buildings were reportedly destroyed in the 7.7 magnitude earthquake in Myanmar.
Video showing people being rescued from the rubles of the collapsed buildings.
Pray for Myanmar 🇲🇲 🙏🏻#Myanmar #earthquake #แผ่นดินไหว pic.twitter.com/7yPoGXMBvK
— Sumit (@SumitHansd) March 28, 2025
یو ایس جی ایس کے مطابق، زلزلے کا مرکز منڈالے شہر سے تقریباً 17.2 کلومیٹر دور تھا، جس کی آبادی تقریباً 1.2 ملین ہے۔
میانمار کے فائر سروسز ڈپارٹمنٹ کے ایک افسر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا “ہم نے جانی اور مالی نقصان کی جانچ کرنے کے لیے ینگون کے ارد گرد تلاش شروع کر دی ہے۔ ابھی تک ہمارے پاس کوئی اطلاع نہیں ہے۔”
میانمار کی فوجی حکومت کے سربراہ جنرل من آنگ ہلینگ نے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک سے مدد اور عطیات کی اپیل کی تھی۔ اس اپیل پر چین، روس اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
چین کی ایک 37 رکنی امدادی ٹیم ہفتے کے روز میانمار کے سابق دارالحکومت ینگون پہنچی، جو اپنے ساتھ طبی سامان اور زندگی کے آثار کا پتہ لگانے والے آلات لے کر آئی ہے۔ روس نے بھی 120 تجربہ کار ریسکیو اہلکار، ڈاکٹر اور تربیت یافتہ کتے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت میانمار کی مدد کے لیے تیار ہے۔
زلزلے کا سب سے زیادہ نقصان میانمار کے دوسرے بڑے شہر منڈالے میں ہوا، جو زلزلے کے مرکز کے قریب تھا۔ امریکی ماہرین کے مطابق میانمار میں ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے تجاوز کر سکتی ہے، اور ملک کو شدید مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
زلزلے کے جھٹکے تھائی لینڈ میں بھی محسوس کیے گئے، جہاں دارالحکومت بنکاک میں ایک 33 منزلہ عمارت گرنے سے نو افراد ہلاک اور 101 افراد لاپتہ ہو گئے، جن میں زیادہ تر مزدور شامل ہیں۔ امدادی کارکن ملبے میں دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ بنکاک کے گورنر چاڈچارٹ سیٹی پونٹ نے کہا ہے کہ “ہم جانیں بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور تمام وسائل استعمال کریں گے۔”
تھائی حکام کے مطابق زلزلے کے بعد کئی لوگوں نے بنکاک کے پارکوں میں رات گزاری، تاہم اب صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ زلزلے کے بڑے نقصان کو دیکھتے ہوئے عالمی امدادی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ مزید جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔