بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت 2.3 ارب ڈالر تک کی رسائی حاصل ہوگی۔ اس حوالے سے سٹاف لیول معاہدے طے پا چکے ہیں۔
نجی خبررساں ادارے انڈیپینڈنٹ اردو کے ممطابق آئی ایم ایف کی کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر جولی کوزیک نے واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران اس پیش رفت کا اعلان کیا کہ 25 ستمبر 2024 کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کی منظوری دی تھی، جو 37 ماہ پر محیط ہوگا۔
آئی ایم ایف کے مطابق ای ایف ایف کے تحت 1 ارب ڈالر کی قسط پاکستان کو دی جائے گی، جو ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ آر ایس ایف کے تحت 1.3 ارب ڈالر مختلف اقساط میں جاری کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم 24 فروری سے 14 مارچ تک پاکستان میں موجود رہی اور ناتھن پورٹر کی سربراہی میں پاکستانی حکام کے ساتھ ای ایف ایف کے پہلے جائزے اور آر ایس ایف کے تحت نئے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جب کہ 25 مارچ 2025 کو سٹاف لیول معاہدہ طے پایا۔
25 مارچ کو جاری کیے گئے بیان میں آئی ایم ایف نے کہا کہ اس نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر کے نئے قرضے کے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، جب کہ سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے پہلے ششماہی جائزے کی منظوری سے پاکستان کے لیے اضافی ایک ارب ڈالر کی رقم جاری ہو سکتی ہے۔
یہ رقم پاکستان کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد جاری کی جائے گی، جس کے لیے باضابطہ شیڈول جلد طے کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: حکومت نے بجلی سستی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کروا دی
یاد رہے کہ 2023 میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا، تاہم آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج نے معیشت کو سہارا دیا، جس کے بعد مہنگائی میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری دیکھی گئی۔
دوسری جانب اس معاہدے کے تحت پاکستان کو کئی سخت معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کرنا پڑا، جن میں آمدنی پر ٹیکس میں اضافہ، توانائی پر سبسڈی میں کمی، حکومتی اخراجات میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔