شدت پسندوں کے حملے کے بعد معطل ہونے والی جعفر ایکسپریس 17 روز بعد دوبارہ چل پڑی، مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن سے ٹرین کو روانہ کیا۔
ٹرین 10 بوگیوں کے ساتھ 430 مسافروں کو لے کر روانہ ہوئی، جب کہ پشاور سے روانہ ہونے والی جعفر ایکسپریس آج شام کوئٹہ پہنچے گی۔
ڈی ایس ریلوے کوئٹہ ڈویژن عمران حیات کے مطابق ٹرینوں کی سیکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ٹرین کے اندر بھی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 11 مارچ کو بلوچستان کے ضلع بولان میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے 400 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔
حملے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 26 افراد مارے گئے، جب کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 33 عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: کیا جعفر ایکسپریس عید سے پہلے بحال ہوگی؟
ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس 9 بوگیوں پر مشتمل تھی۔ ٹرین منگل کی صبح 9 بجے کوئٹہ سے روانہ ہوئی، مسافر ٹرین کوئٹہ سے پشاور جارہی تھی کہ اس دوران پہلے ٹریک پر دھماکا کیا گیا اور پھر ٹرین پر فائرنگ ہوئی، جس کے بعد ٹرین میں موجود سکیورٹی اہلکاروں اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
حملہ بولان کے علاقے میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے ٹرین پر فائرنگ کر کے اسے روک لیا۔ شدت پسندوں نے مسافروں کو یرغمال بنا کر پہاڑی علاقے کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔
دہشت گردوں نے خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، جس کی وجہ سے کلیئرنس آپریشن میں مشکلات درپیش آئیں۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی، جس کے نتیجے میں مسافر بحفاظت بازیاب کروا لیے گئے۔
دوسری جانب کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔