اپریل 5, 2025 1:18 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

اسرائیل کا لبنان پر سب سے بڑا فضائی حملہ، حزب اللہ کے ڈرون اسٹور کو نشانہ بنایا گیا

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
اسرائیل کا لبنان پر سب سے بڑا فضائی حملہ، حزب اللہ کے ڈرون اسٹور کو نشانہ بنایا گیا

اسرائیل نے جمعہ کے روز لبنان کے جنوبی مضافات پر پہلا فضائی حملہ کردیا ہے جو نومبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے۔

اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت پر اس حملے کو حزب اللہ کے ڈرون اسٹور کے طور پر بیان کیاہے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان سے دو دنوں میں راکٹ فائر کیے گئے تھے 22 مارچ اور پھر جمعہ کو۔ اسرائیل نے اس حملے کو ایک جوابی کارروائی قرار دیا جو اس نے ‘حزب اللہ’ کی ممکنہ مداخلت کے ردعمل میں کیا۔

لبنانی صدر ‘جوزف عون’ نے جمعہ کے روز اسرائیل کے حملے کو ‘غیر ضروری اور بلاجواز’ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کی تفتیش میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے ہیں۔ حزب اللہ نے بھی اسرائیل کے الزامات کو مسترد کردیا ہے  اور کہا کہ اس نے لبنان سے اسرائیل کی جانب کوئی راکٹ فائر نہیں کیا۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، جنہوں نے نومبر میں جنگ بندی معاہدے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب میکرون نے اسرائیل کی طرف سے بیروت پر کیے گئے فضائی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

میکرون نے اس حملے کو ‘ناقابل قبول’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو فوری طور پر اپنے پانچ فوجی اڈوں کو لبنان سے خالی کرنا ہوگا۔

میکرون نے مزید کہا کہ اسرائیل نے جو کارروائی کی ہے اس کے پیچھے کوئی معقول وجہ نہیں ہے اور اس حملے کا معاہدے کے تحت کسی بھی طرح کا جواز نہیں بنتا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘یوکرین میں عبوری حکومت، نئے انتخابات اور جنگ بندی کے معاہدوں کی ضرورت ہے’ ولادیمیر پوتن

دوسری جانب اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر برائے لبنان ‘جینین ہینس پلاسچارٹ’ نے بھی اسرائیل کے فضائی حملے کو ” تشویش کا باعث” قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقے میں کسی بھی قسم کی حملہ انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے اور اس سے پورے خطے میں وسیع جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ہینس پلاسچارٹ نے اقوام متحدہ کے امن مشن کے ساتھ مل کر فوری طور پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی اپیل کی۔

لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے فوج کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر راکٹ حملوں کے ذمہ داروں کا پتا لگائیں اور انہیں گرفتار کرے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے لبنان کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں اور ان کے پیچھے کسی بھی مجرمانہ یا غیر ذمے دار عناصر کو گرفتار کرنا ضروری ہے۔

وزیر اعظم نواف سلام نے عالمی برادری سے اسرائیل کے حملوں کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

لازمی پڑھیں: جنوبی کوریا میں تاریخ کی بدترین آتش زدگی، 35,000 ہیکٹر جنگلات تباہ

اگرچہ نومبر میں ہونے والے معاہدے کے بعد لبنان اور اسرائیل میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا مگر اس کے باوجود اسرائیل نے متعدد بار لبنان کے جنوبی اور مشرقی حصوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے حزب اللہ کے عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں جو معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

دوسری جانب حزب اللہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کا احترام کرتا ہے اور انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ لبنان کے جنوبی حصے سے اسرائیل کی طرف راکٹ فائر کیے گئے تھے۔

حزب اللہ کے مطابق اسرائیل کی کارروائیاں معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اس کے نتیجے میں خطے میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔

جہاں ایک طرف اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں کا جواز پیش کر رہا ہے وہیں لبنان اور عالمی طاقتیں اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

  مزید پڑھیں: خرطوم کی جنگ: سوڈانی فوج کی فتح یا ایک نئی جنگ کا آغاز؟ا

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس