نیپال کے دارلحکومت ‘کھٹمنڈو’ میں بادشاہت کی بحالی کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ایک صحافی اور ایک مظاہرہ کنندہ ہلاک ہوگئے۔
پولیس کے مطابق ان مظاہروں کے دوران اہلکاروں نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، واٹر کینن، ربڑ کی گولیاں اور ہوائی فائرنگ کی۔
فرانس کے خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا تھا جس کے نتیجے میں تشدد میں شدت آئی۔
پولیس ترجمان دنیش کمار آچاریہ نے بتایا کہ ایک مظاہرہ کنندہ گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ صحافی کی موت اس وقت ہوئی جب مظاہرین نے اُس عمارت کو آگ لگا دی تھی جس کی وہ رپورٹنگ کر رہے تھے۔
جمعے کی صبح ہزاروں افراد نیپال کی پارلیمنٹ کے قریب جمع ہوئے، بادشاہت کی بحالی اور ہندو مذہب کو ریاستی مذہب بنانے کے حق میں نعرے لگائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ بادشاہ اور ملک ان کی زندگی سے زیادہ عزیز ہیں۔ یہ مظاہرے سیاسی عدم استحکام، بدعنوانی اور کمزور معیشت پر عوامی عدم اطمینان کے باعث شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ نیپال میں بادشاہت کی بحالی کی جائے اور ہندو مذہب کو ریاستی مذہب کے طور پر دوبارہ تسلیم کیا جائے۔
پولیس کے مطابق مظاہروں کے دوران کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا اور کٹھمنڈو ویلی پولیس اسٹیشن کے ترجمان شیکھر کھنال نے بتایا کہ 4 پولیس اہلکار شدید زخمی بھی ہوئے تھے جن کا علاج جاری ہے۔
23 مظاہرین زخمی ہوئے اور 17 کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ حکام نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا۔
یاد رہے کہ نیپال نے 2008 میں پارلیمنٹ کے ذریعے بادشاہت کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک وفاقی جمہوری نظام اختیار کیا تھا جو ایک امن معاہدے کا حصہ تھا اور جس سے ایک دہائی سے جاری خانہ جنگی کا اختتام ہوا تھا جس میں 16 ہزار سے زائد افراد کی جانیں گئیں۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کا لبنان پر سب سے بڑا فضائی حملہ، حزب اللہ کے ڈرون اسٹور کو نشانہ بنایا گیا