اپریل 5, 2025 12:40 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

‘ایران کو یا تو ہمارے ساتھ بات کرنی ہوگی یا پھر اس کے لئے برا وقت آئے گا’ امریکی صدر

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
'ایران کو یا تو ہمارے ساتھ بات کرنی ہوگی یا پھر اس کے لئے برا وقت آئے گا' امریکی صدر

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ جوہری معاہدہ نہیں کرتا تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

یہ دھمکی ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جوہری معاہدے پر مذاکرات کے حوالے سے بھیجے گئے خط کے جواب میں دی ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے ‘اوول آفس’ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں ایران کو ایک خط بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کو فیصلہ کرنا ہوگا۔

ٹرمپ نے کہا کہ “ایران کو یا تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنی ہوگی یا پھر اس کے لئے برا وقت آئے گا۔”

ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کہا ہے کہ ان کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ ایران کے ساتھ مسئلہ حل کیا جائے لیکن اگر ایسا نہ ہو سکا تو ایران کے لئے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کو مارچ کے آغاز میں ایک خط بھیجا تھا جس میں جوہری معاہدے پر مذاکرات کی پیشکش کی گئی تھی۔

ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ ایران کے ساتھ دو طریقوں سے نمٹا جا سکتا ہے۔ ایک طریقہ عسکری ہے اور دوسرا معاہدے کے ذریعے، جسے وہ ترجیح دیتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق ایران کے ساتھ تصادم سے بچنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین پر روسی ڈرون حملے میں چار افراد ہلاک، 19 زخمی، کئی گھروں کو آگ لگ گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “ہم ایک اور جوہری بم نہیں بننے دے سکتے”۔

ایران نے اس تمام صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے امکان کو رد کر دیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ وہ ملک عمان کے ذریعے ٹرمپ کے خط کا جواب دے چکا ہے جس میں ایران کے موقف کو واضح کیا گیا ہے۔

عراقچی نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں کرے گا تاہم بالواسطہ مذاکرات کا امکان برقرار ہے۔

ایران نے امریکی صدر کی دھمکیوں کے باوجود مذاکرات کے دروازے کو بند نہیں کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ایران نے امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کیے ہیں اور یہ طریقہ اب بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے اپنے خط میں ایران کو جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لئے دو ماہ کی مہلت دی تھی۔

ایران کے ساتھ امریکی تعلقات میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی تھی جب ٹرمپ نے 2018 میں ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر امریکا کو نکال لیا تھا اور ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

اب، جبکہ ایران نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کیا ہے تو دنیا بھر میں اس بات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے کہ آیا ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات سے کسی معاہدے کا امکان پیدا ہو سکے گا یا نہیں۔

مزید پڑھیں: نیپال میں بادشاہت کی بحالی کے لیے احتجاج: پولیس کے تشدد سے صحافی سمیت دو افراد ہلاک

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس