امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نے ڈنمارک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ گرین لینڈ کی حفاظت کے معاملے میں ناکام ہو چکے ہیں اور امریکا اس نیم خودمختار ڈنمارکی علاقے کی زیادہ بہتر طریقے سے حفاظت کرے گا۔
وینس کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ میں موجود امریکی فوجی بیس، پٹوفک، میں امریکا کی فوجی موجودگی میں فوری طور پر کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا تاہم امریکا اس خطے میں مزید وسائل اور بحری جہاز شامل کرے گا تاکہ چین اور روس جیسے ممالک کی بڑھتی ہوئی مداخلت کا مقابلہ کیا جا سکے۔
وینس نے اس موقع پر گرین لینڈ کے لوگوں کی خودمختاری کے احترام کا عہد کیا مگر ساتھ ہی یہ دعویٰ کیا کہ گرین لینڈ کو امریکا کے ساتھ تعاون میں اپنی حفاظت اور معیشت کے لیے بہت فائدہ ہوگا۔
ان کے مطابق روس اور چین جیسے ممالک گرین لینڈ کے ارد گرد کے سمندری راستوں، آرکٹک میں موجود معدنیات، اور نیوی گیشن کے لیے غیر معمولی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ “ڈنمارک نے وسائل کی کمی کے سبب گرین لینڈ کی حفاظت میں ناکامی دکھائی ہے“۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال میں بادشاہت کی بحالی کے لیے احتجاج: پولیس کے تشدد سے صحافی سمیت دو افراد ہلاک
وینس نے ڈنمارک کی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ “ڈنمارک نے اس کی فوجی بیس اور ہمارے فوجیوں کی حفاظت کے لیے درکار وسائل مہیا نہیں کیے ہیں۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ “اسی وجہ سے گرین لینڈ کو روس، چین اور دیگر ممالک کی جارحانہ سرگرمیوں کا سامنا ہے”۔
تاہم انہوں نے ان جارحانہ کارروائیوں کی تفصیل نہیں بتائی۔
امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ خواہش ہمیشہ سے رہی ہے کہ امریکا گرین لینڈ کو اپنے زیر کنٹرول لے گا اور وینس نے اس بات کا عندیہ بھی دیا ہے کہ امریکا اس علاقے کی حفاظت میں زیادہ اہم کردار ادا کرے گا۔
وینس کی اس سخت بیان بازی پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام میں غم و غصہ پایا گیا۔ گرین لینڈ کے نئے وزیرِ اعظم، جینس-فریڈرک نیلسن نے اس دورے کو ‘عدم احترام’ کا مظاہرہ قرار دیا جبکہ ڈنمارک کی وزیر اعظم ‘میٹ فریڈرکسن’ نے کہا کہ “امریکی نائب صدر کا ڈنمارک کے بارے میں بیان غیر منصفانہ ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ “ڈنمارک اور امریکا نے ہمیشہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور وینس کا یہ بیان ہمارے طویل تعلقات کے برعکس ہے۔”
لازمی پڑھیں: اسرائیل کا لبنان پر سب سے بڑا فضائی حملہ، حزب اللہ کے ڈرون اسٹور کو نشانہ بنایا گیا
وینس کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان دیا ہے جس میں کہا کہ امریکا کو گرین لینڈ کی ضرورت ہے تاکہ دنیا بھر میں امن برقرار رکھا جا سکے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “گرین لینڈ کے آبی راستوں میں چین اور روس کی بہت زیادہ موجودگی ہے اور امریکا اس صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے کسی بھی دوسرے ملک پر انحصار نہیں کر سکتا۔”
ڈنمارک کے وزیر خارجہ ‘لارس لوک’ نے کہا کہ وینس نے اس بات پر کچھ حد تک درست موقف اپنایا ہے کہ “ڈنمارک نے کافی وسائل نہیں فراہم کیے مگر اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ امریکا نے خود بھی اس معاملے میں کافی کمی کی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے دوران جب امریکا نے گرین لینڈ میں 17 فوجی اڈے قائم کیے تھے اور ان میں 10,000 فوجی موجود تھے جبکہ آج امریکا کے پاس 200 فوجی ہیں۔
امریکا کی اس بڑھتی ہوئی دلچسپی اور وینس کے تنقیدی بیانات کے بعد گرین لینڈ اور ڈنمارک کی حکومتوں کی جانب سے محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ تاہم، امریکا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور روس و چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر یہ ممکنہ طور پر ایک سیاسی اور فوجی محاذ کھول سکتا ہے جس کا عالمی سطح پر گہرا اثر پڑے گا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گرین لینڈ میں ایک نئی وسیع حکومت تشکیل پائی ہے جس کا مقصد ڈنمارک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھنا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرین لینڈ کی حکومت کو امریکا کی بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی اور اس کے اثرات پر گہری تشویش ہے۔
وینس کا یہ دورہ اور اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی اقتصادی، فوجی اور جغرافیائی سیاست میں گرین لینڈ کی اہمیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔