پاکستان اور کیویز کے دوران میچ میں جہاں قومی ٹیم کی کارکردگی نے شائقین کو مایوس کیا، وہیں ایک کیوی کھلاڑی نے وہ یادگار لمحہ دیا جس نے سب کے دل جیت لیے۔
لاہور میں پیدا ہونے والے محمد عباس نے نیوزی لینڈ کی طرف سے اپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا، اور یہ لمحہ پاکستانیوں کے لیے بھی فخر کا باعث بن گیا۔
2003 میں پیدا ہونے والے محمد عباس نے آج نیپیئر کے میک لین گراؤنڈ میں اپنے ڈیبیو میچ میں نہ صرف تیز ترین نصف سنچری اسکور کر کے سب کو حیران کر دیا بلکہ بولنگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ بائیں ہاتھ کے میڈیم فاسٹ بولر ہیں اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں 12 وکٹیں لے چکے ہیں۔

انہوں نے پاکستانی کپتان محمد رضوان کی قیمتی وکٹ حاصل کر کے نیوزی لینڈ کرکٹ میں اپنی جگہ پکی کر لی۔
واضح رہے کہ محمد عباس کی فورڈ ٹرافی کے میچوں میں شاندار کارکردگی نے سلیکٹرز کو متاثر کیا، جب نیوزی لینڈ کے کئی کھلاڑی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کھیلنے میں مصروف تھے، تو پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے کوچ گیری سٹیڈ نے انہیں ٹیم میں شامل کر لیا۔
محمد عباس نے نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ جب مجھے گیری سٹیڈ کا فون آیا اور ٹیم میں شمولیت کی اطلاع ملی تو میں حیران رہ گیا۔ یہ میرے لیے خواب کے پورا ہونے جیسا تھا۔

یہ لمحہ عباس کے والدین کے لیے بھی جذباتی تھا، جو اس تاریخی موقع پر اسٹیڈیم میں موجود تھے۔ ان کے والد اظہر عباس کا کہنا تھا کہ “اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ میرے بیٹے کو آج محنت کا صلہ مل رہا ہے۔
یاد رہے کہ محمد عباس کے والد اظہر عباس ہراج کا تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال سے ہے۔ وہ خود بھی ایک باصلاحیت کرکٹر تھے اور پشاور، ریلویز اور زرعی ترقیاتی بینک کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ تاہم قومی ٹیم میں منتخب نہ ہونے کے باعث وہ انگلینڈ چلے گئے، جہاں سے انہیں نیوزی لینڈ منتقل ہونے کا موقع ملا۔