انڈین ریاست اتر پردیش میں ہولی کے رنگ نا لگوانے پر ایک مسلمان شہری کو قتل کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق واقعہ 2 ہفتے قبل ریاست اتر پردیش کے شہر اُناؤ (Unnao) میں پیش آیا جہاں ہولی کے رنگ نہ لگوانے پر انتہاپسندوں نے 53 سال کے محمد شریف کو تشدد کرکے قتل کردیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے موت کی وجہ ہارٹ اٹیک قرار دے دی تھی جس پر انصاف کے لیے محمد شریف کے گھر والوں نے میت سڑک پر رکھ کر احتجاج تو پولیس نے مقتول کے گھر والوں کے خلاف ہی پرچہ کاٹ دیا۔
پولیس کے رویے پر اپوزیشن جماعتوں کی شدید تنقیدکی ہے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ‘پورے پاکستان میں یہی منظر نظر آئے گا’ پاکستان میں ہندوؤں کی ہولی
یاد رہے کہ پاکستان میں بسنے والے ہندو برادری کے افراد جوش و خروش سے ہولی کا تہوار منا تے ہیں۔ رنگوں کا یہ تہوار ہر سال موسم بہار کی آمد پر منایا جاتا ہے اور خوشی، محبت اور بھائی چارے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اس دن ہندو برادری کے لوگ ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں، گلال لگاتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
پاکستان میں خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں جیسے کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، عمرکوٹ اور لاہور میں ہولی کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جہاں مندروں اور کھلی جگہوں پر خصوصی اجتماعات ہوتے ہیں۔
یہ تہوار برائی پر نیکی کی فتح کی علامت بھی ہے اور بھگوان کرشن سے منسوب کیا جاتا ہے، جو خوشی، رنگ اور محبت کے دیوتا مانے جاتے ہیں۔
ہولی کے موقع پر خصوصی عبادات کی جاتی ہیں، ہولی کی آگ جلائی جاتی ہے اور لوگ روایتی گیت گاتے اور رقص کرتے ہیں۔
پاکستانی حکومت بھی اس دن پر اقلیتی برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی ہے اور سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
ہولی کا تہوار اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں مختلف مذاہب کے لوگ مل جل کر اپنی روایات کو زندہ رکھتے ہیں اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔